چیف جسٹس آزا دجموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراھی میں سٹیٹ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا تیرہواں اجلاس

Thursday, February 23rd, 2023 @ 1:39PM

                  چیف جسٹس آزا دجموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراھی میں سٹیٹ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا تیرہواں اجلاس۔ اہم ترین فیصلے۔  سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقدہ اجلاس میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان، چئیرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ساتھ  سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم،  ممبر،جسٹس صداقت حسین راجہ چیف جسٹس ہائی کورٹ، ممبر اور جسٹس میاں عارف حسین سینئر جج ھائی کورٹ،  ممبر جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے  ساتھ سیکرٹر ی قانون و انصاف آزاد جموں و کشمیر کے علاوہ سپریم کورٹ، ھائی کورٹ اور محکمہ قانون کے سینئر آفیسران شریک  ھوے۔  اجلاس  کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔  چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کمیٹی کے شرکاء کو خوش آمدید کہا ۔ اجلاس کے آغاز سے قبل   ترکیہ، شام اور لبنان میں ہونے والے ہولناک زلزلے  سے انسانی جانوں کے نقصان پر دلی افسوس اور رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ ۔ کمیٹی نے زلزلے کے دوران شہید اور زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے   شہید ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے بھی دعا کی۔  کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ  سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنی پانچ ایام کی بنیادی  تنخواہ  جبکہ سپریم کورٹ ،  ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ  کے  گریڈ بیس و بالا کے آفیسران تین ایام کی بنیادی تنخواہ اور اسی طرح عدلیہ کے  گریڈ بیس سے کم  کے دوسرے تمام ملازمین کی دو ایام کی بنیادی تنٰخواہ ترکیہ ، شام اور لبنان کے زلزلہ متاثرین کے لئے بطور عطیہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ سیکرٹری قانون جو کہ سیکرٹری جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی بھی ھیں کمیٹی کے سابق اجلاسوں اور فیصلوں پر عمل درآمد بارے بریف کیا۔   اجلاس میں آئین اور قانون کی بالادستی، عدالتی امور کے علاوہ دیوانی اور فوجداری قوانین کے ساتھ ساتھ عدالتی انتظام و انصرام  کا  بھی جائزہ لیا گیا اور اہم ترین فیصلے ہوئے ۔  جوڈیشل پالیسی میکنگ کیمٹی کے تیرہویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل سیکرٹری قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت تک کمیٹی کے بارہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔  کمیٹی کے قیام سے اب تک ھونے والے اجلاسوں میں  عدلیہ کی کارکردگی، استعداد کار اور انفراسٹرکچر  میں بہتری کے علاوہ مختلف قوانین میں موجود سقم دور کرنے اور انصاف کی فوری فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے  لئے کمیٹی نے کام کیا ہے اور خاطر خواہ  نتائج حاصل کئے ھیں۔  کمیٹی کو بتایا گیا کہ بارہویں اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا تھا  کہ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد  کیا جائے اور اس بارے میں  حکومتی محکمہ جات کو مطابقاً مطلع کر دیا جائے۔  اس فیصلہ کی تعمیل میں  9 مارچ 2022 کو ایک سرکلر جاری کیا گیا  جس میں تمام سرکاری محکمہ جات کو ہدایت کی گئی کہ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں پر  من و عن عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جناب چئیرمین  جوڈیشل پالیسی میکنگک کمیٹی چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے  کمیٹی کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد پر اطیمنان کا اظہار کیا ھے۔کمیٹی   نے اس امر کا اعادہ بھی کیا کہ  عدالتی ڈگریوں پر عمل درآمد میں غیر معمولی تاخیر  عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد میں بڑی تاخیر کا سبب ہے۔    کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس  معاملہ میں  غور و خوض کے لئے خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔   تاہم اس دوران محکمہ قانون  بینکنگ کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور  اس سلسلہ میں لاہور ھائی کورٹ  کے فیصلہ کا بھی  ملاحظہ کرے  تاکہ عدالتی ڈگریوں پر عمل درآمد میں تاخیر کے اسباب  کا تدارک کیا جا سکے۔۔اجلاس میں یہ امر بھی زیر غور لایا گیا کہ   چئیر پرسن ان لینڈ ریونیو اور ماحولیاتی ٹربیونل  کی تقرری   نہ ہونے کی وجہ سے فریقین مقدمہ   متاثر ہو رہے ھیں اور ان کے پاس  اس کے علاوہ کوئی چارہ  کار نھیں ہے کہ وہ ایسی صورت میں ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں   جس سے  ہائی کورٹ پر مزید  بوجھ بن رہا ہے۔   سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر   نےچئیر پرسن ان لینڈ ریونیو  کی فوری تقرری  کے سلسہ میں فیصلہ دے رکھا ہے لیکن   ابھی تک یہ مسئلہ حل نھیں ہو سکا ہے۔ سیکرٹری قانون نے اجلاس کو بتایا کہ اس سلسہ میں ایک سمری پہلے ہی وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کے رو برو پیش کی جا چکی ہے۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے خواہش کا اظہار کیا ھے کہ  ان عہدوں پر تقرری کے لئے ترجیحاً اقدامات اٹھائے جائیں۔سٹیٹ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی ایک اعلیٰ سطحی آئینی ادارہ ہے  جس کے فیصلوں  سے نظام فراہمی  عدل پر دور رس اثرات مرتب ہو تے ہیں ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس فورم کے فیصلہ جات پر عمل درآمد  کو تمام انتظامی اداروں  پر لازم قرار دینے کے لئے قانون میں لازمی  ترامیم عمل میں لائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا  کہ   کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں کئے جانے والے فیصلہ اور  میڈیا رپورٹس کے با وجود  متعدد ریٹائرڈ شخصیات  سپریم کورٹ/ ہائی کورٹ/شریعت کورٹ   کے سرکاری نشانات، فلیگ راڈ، مونوگرام،  گرین نمبر پلیٹ اور  مونوگرام وغیرہ استعمال کر رہے ھیں ۔ مزید برآں ایسی ریٹائرڈ شخصیات کے ہمراہ گاڑیوں کے ڈرائیور  بھی  عدلیہ کے بیج والی ٹوپیاں  بھی پہنتے ہیں۔ کمیٹی نے سیکرٹری جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ  تمام ریٹائرڈ شخصیات کو سربمہر لفافوں میں  مکتوب جاری کیا جائے  اور انھیں بتایا جائے کہ  یہ عمل غیر قانونی ہے اور آئندہ   پرائیویٹ گاڑیوں پر گرین نمبر پلیٹ، سرکاری مونوگرام ،فلیگ راڈ اور سرکاری نشانات کے استعمال  کی صورت میں   ایسی گاڑیوں سے نمبر پلیٹ، فلیگ راڈ، مونوگرام/نشانات   وغیرہ  ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ہٹا دئیے جائیں اور اگر یہ مونوگرام، فلیگ راڈ یا  نمبر پلیٹ کسی سرکاری دفتر کی ملکیت ھیں تو فوری طور پر اس دفتر میں واپس جمع کروائے جائیں۔ ۔ اجلاس میں یہ  امر بھی زیر غور لایا گیا کہ آزاد کشمیر میں  کچھ دیگر ریاستی   اداروں کےسربراہان/عہدیداران بھی آئینی عدالتوں کے مماثل سرکاری نمبر پلیٹیں ،  فلیگ راڈ ، مونوگرام اور نشانات  وغیرہ اپنی سرکاری  گاڑیوں کے ساتھ استعمال کر رہے ھیں ۔ ایسے تمام آفیسران /عہدیداران کو بھی محکمہ قانون کے ذریعہ فوری مطلع  کیا جائے  کہ فوری طور پر ایسے نشانات کو ہٹا دیا جائے چوں کہ ایسے محکموں کے آفیسران /عہدیداران  ان سرکاری  نشانات اور مونوگرام وغیرہ   استعمال کرنے کا  قانونی  استحقاق نھیں رکھتے۔اجلاس  میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ محکمہ اطلاعات  کے فیس بک پیج  پر  یہ درج ہے کہ  ایک منصوبہ   مالیتی 40 کروڑ 65 لاکھ  94 ہزار ہائی کورٹ  آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ installation of elevator  in High Court  has been approved”    “ جو بالکل غلط اور سراسر بے بنیاد   ہے جو ھائی کورٹ پر دشنام طرازی ہے۔ سیکرٹری اطلاعات  کو  سیکرٹری قانون کے ذریعہ اطلاع دی جائے کہ  وہ  اس  طرح کا بیان پی آئی ڈی کی فیس بک پیج پر لگانے کی وجہ بیان کرے اور   اس خبر  کی فوری طور پر درستی عمل میں لائے۔۔چیف جسٹس ھائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے کمیٹی کو بتایا کہ   کمیٹی کے سابق فیصلوں کی تعمیل میں  ماتحت عدلیہ کے تمام ججز صاحبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کر دیئے ھیں ۔۔ آخر میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نےاجلاس کے   تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔

Posted by
Categories: Press Release

Comments are closed.