مظفرآباد – 16جولائی2020 چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ ایک دیانتدار،محنتی اور اپنے پیشہ سے انصاف کرنے والا وکیل عدالت کا وقار اور شان ہوتا ہے۔ وکلاء کے بغیر ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ جج اور وکیل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے۔اگر آپ اپنے اس پیشہ سے انصاف کریں گے تو ہر جگہ سرخرو ہوں گے۔ کالا کوٹ وکلاء کی شان اور وقار ہے۔ عدالت کا وقار وکلاء نے ہی بحال کرنا ہوتا ہے۔اگر آپ عدالت اور اپنا وقار بحال رکھیں گے تو ہی آپ کی اور عدالت کی عزت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے جمعرات کے روز آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ میں نئے وکلاء کو لائسنس دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل ،سپریم کورٹ بار،ہائی کورٹ بار، سینٹرل بار ایسوی ایشن کے عہدیداران اور سینئر وکلاء بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ عدالت کے لیے ایک وکیل سے بڑھ کر کوئی باوقار نہیں ہو سکتا۔ آپ اس مقدس پیشہ سے انصاف کریں اور اپنے سائل کی توقعات پر پورا اتریں تاکہ عام آدمی تک انصاف پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھے وکیل کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنا کیس جامع پیش کرے تاکہ عدالت کیس سن کر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوسکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے آنے والے وکلاء ہمارے لیے رول ماڈل ہونے چاہیے۔ کل آپ نے ہماری جگہ ہونا ہے اور سینئر وکلاء کی جگہ بھی آپ لوگوں نے ہی لینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کریں، اپنے کام کو ذمہ داری سے کریں تاکہ ایک اچھا وکیل بن سکیں، اپنے سائل کی توقعات پر پورا سکیں۔ انہوں نے کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں نہ کوئی جج اور نہ کوئی وکیل۔ وکلاء کے تمام مسائل حل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے وقار او ر عزت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں گے اتنا ہی آپ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آزادکشمیر میں اچھی روایات ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء میری جان ہیں۔انہوں نے نئے لائسنس ہولڈرز وکلاء کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آخر میں چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل نے نئے انرول ہونے والے وکلاء میں لائسنس تقسیم کیے۔

مظفرآباد   - 16جولائی2020

چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ ایک دیانتدار،محنتی اور اپنے پیشہ سے انصاف کرنے والا وکیل عدالت کا وقار اور شان ہوتا ہے۔ وکلاء کے بغیر ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ جج اور وکیل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے۔اگر آپ اپنے اس پیشہ سے انصاف کریں گے تو ہر جگہ سرخرو ہوں گے۔ کالا کوٹ وکلاء کی شان اور وقار ہے۔ عدالت کا وقار وکلاء نے ہی بحال کرنا ہوتا ہے۔اگر آپ عدالت اور اپنا وقار بحال رکھیں گے تو ہی آپ کی اور عدالت کی عزت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے جمعرات کے روز آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ میں نئے وکلاء کو لائسنس دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل ،سپریم کورٹ بار،ہائی کورٹ بار، سینٹرل بار ایسوی ایشن کے عہدیداران اور سینئر وکلاء بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ عدالت کے لیے ایک وکیل سے بڑھ کر کوئی باوقار نہیں ہو سکتا۔ آپ اس مقدس پیشہ سے انصاف کریں اور اپنے سائل کی توقعات پر پورا اتریں تاکہ عام آدمی تک انصاف پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھے وکیل کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنا کیس جامع پیش کرے تاکہ عدالت کیس سن کر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوسکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے آنے والے وکلاء ہمارے لیے رول ماڈل ہونے چاہیے۔ کل آپ نے ہماری جگہ ہونا ہے اور سینئر وکلاء کی جگہ بھی آپ لوگوں نے ہی لینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کریں، اپنے کام کو ذمہ داری سے کریں تاکہ ایک اچھا وکیل بن سکیں، اپنے سائل کی توقعات پر پورا سکیں۔ انہوں نے کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں نہ کوئی جج اور نہ کوئی وکیل۔ وکلاء کے تمام مسائل حل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے وقار او ر عزت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں گے اتنا ہی آپ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آزادکشمیر میں اچھی روایات ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء میری جان ہیں۔انہوں نے نئے لائسنس ہولڈرز وکلاء کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آخر میں چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل نے نئے انرول ہونے والے وکلاء میں لائسنس تقسیم کیے۔