Picture Gallery 2021

مظفرآباد  07 اکتوبر2021
چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیرجسٹس راجہ سعید اکرم نے محمد اجمل گوندل سے آڈیٹر جنرل آزادجموں وکشمیر کے عہدے کا حلف لے لیا۔ حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر میں منعقدہوئی۔

مظفرآباد 05اکتوبر2021
چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ عوام کیلئے بھلائی کرنے والا اللہ کو بہت پسند ہے، عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ انجم نثار میر مرحوم بہترین وکیل اور درد درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ وکلاء میری فیملی ہیں،وکلاء کے مسائل میرے مسائل ہیں۔جب بھی سینٹرل بار آیا بہت محبت ملی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن انجم نثار میر کی چھٹی برسی کے موقع پر سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، جج احتساب کورٹ،ممبران بار کونسلز، سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ موت کا وقت مقرر ہے لیکن انسان کے جانے کے بعد اسکا کردار زندہ رہتا ہے۔انجم نثار میر اس بار کے چھ مرتبہ صدر رہے۔ وکلاء کے لئے ا ن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ انجم نثار میر نے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کیں‘ انہیں اللہ رب العزت پر بہت یقین تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سینٹر ل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتا ب نے کہاکہ انجم نثار میرعظیم وکیل اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک انسان تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا پر نہیں ہو سکتا۔ ان کی وفات پر جو خراج عقیدت ان کو اہلیان کشمیر کی جانب سے دیا گیا وہ ایک تاریخ ہے۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ انجم نثار میر کی وکلاء کیلئے جدوجہد اور انکی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔تقریب کے آخر میں انجم نثار میر کے بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
مظفرآبا 05اکتوبر 2021
سپریم کورٹ آ زاد جموں و کشمیر میں سب انسپکٹر پولیس طارق محمود کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقادکیا گیا۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان،سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان کے علاوہ رجسٹرار سپریم کورٹ اور آفیسران کی شرکت۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے ریٹائرہونے والے پولیس انسپکٹر کی خدمات کو سراہتے ہوے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ ریٹائرہونے والے پولیس انسپکٹر کو چیف جسٹس اور ججز کی جانب سے تحفے دینے کے علاوہ سند حسن کارکردگی اور شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔
مظفرآباد 04 اکتوبر2021
چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشر ے کا تصور موثر نظام فراہمی انصاف کے بغیر ناممکن ہے۔ ریاستوں اور معاشروں کی مضبوطی، استحکام، امن، سلامتی، ترقی اور فلاح کا دار و مدار ایک موثر مضبوط اور فوری فراہمی انصاف کے نظام سے مشروط ہے۔ جن معاشروں اور ریاستوں میں نظم فراہمی انصاف کو نظر انداز کیا جاتا ہے وہاں انار کی اور بد امنی پیدا ہوتی ہے جو ریاستوں اور معاشروں کی کمزوری اور انتشار کا سبب بنتی ہے۔ جمهوری اقدار کا تحفظ اور معاشی ترقی کا تصور بھی ایک موثر نظام فراہمی انصاف سے منسلک ہے۔ تمام اداروں کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے اندر جدید تقاضوں کے مطابق موثر نظام فراہمی انصاف کے لیے کردار ادا کریں۔ سپریم کورٹ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے اندر قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنایا جائے۔ ریاست کے اندر تمام ادارے ماتحت عدلیہ سمیت اس ذمہ داری کے نبھانے میں عدالت عظمیٰ کی معاونت کے پابند ہیں۔عظیم حریت رہنماء سید علی گیلانی کی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔تمام وکلاء، بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے قومی، ملکی اور بین الاقوامی سطح کے ہر ایک فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیر ی عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے اپنا عملی کردار ادا کریں۔ عدلیہ کی آزادی، قانون اور آئین کی حکمرانی، گڈگورننس اور میرٹ کی بالا دستی کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق کی تحفظ اور نظام فراہمی انصاف میں وکلاء کا اہم کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزادجموں وکشمیرجسٹس راجہ سعید اکرم خان نے نئے عدالتی سال 2021-22 کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان بھی موجود تھے۔ تقریب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راجہ وسیم یونس ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار راجہ محمد الطاف ایڈووکیٹ، رجسٹرار سپریم کورٹ شیخ راشد مجید نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس سہیل حبیب تاجک، صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب خان ایڈووکیٹ، عہدیداران و اراکین سپریم کورٹ بار، ہائی کورٹ بار، سینٹرل بار و ضلعی بار ہاء، عہدیداران و اراکین بار کونسل، سینئر وکلاء خواتین وکلاء اور دیگر موجود تھے۔ چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ نئے عدالتی سال کے موقع پر اپنی جانب سے اور آزادکشمیر کی پوری عدلیہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر بھار تی ظلم وجبر اور بربریت کے خلاف نصف صدی سے زائد عرصہ برسرپیکار رہنے والے عظیم رہنماء سید علی گیلانی کی وفت پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ میں ان کی تاریخی خدمات پر انہیں خراج عقید ت پیش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنی ساری زندگی ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے گزاری۔ ان کے الفاظ کہ”ہم پاکستانی ہیں اورپاکستان ہمارا ہے“اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے اور انشاء اللہ بہت جلد پوری ریاست جموں وکشمیر کے لوگ اپنی منزل پا لیں گے۔ ہمیں کسی بھی موقع پر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ خطہ جہاں پر ہم آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں یہ ان شہیدوں کے لہو کی بدولت ہے جنہوں نے بھارتی ظلم و بربریت کامقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس عظیم مشن کو جاری رکھیں۔ آزادجموں وکشمیر کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام وکلاء، بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے قومی، ملکی اور بین الاقوامی سطح کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیر ی عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔ ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کے خلاف برسرپیکار تمام وکلاء بالخصوص جدوجہد آزادی کی تحریک میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں شہید اور زخمی ہونے والے تمام کشمیری وکلاء اور ان کے لواحقین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور تمام کشمیر ی برادری اور وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ہم اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارتی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں کشمیر یوں کی نسل کشی کا مقدمہ چلائے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت جو کہ ان کا پیدائشی حق ہے دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ میں آزادجموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار قانون ساز ادارہ کی طرف سے انسانی حقوق کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ ضرورت اس اہم کی ہے کہ اس ادارہ کو فوری طور پر فعال بنایا جائے تاکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلقہ دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جا سکے اور مقبوضہ جمون وکشمیر میں بھارتی افواج اور را کے ایجنٹوں کی جانب سے انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں، عصمت دری کے واقعات، ماو رائے عدالت کشمیری نوجوانوں کے قتل، کشمیریوں کی قیادت کو غیر قانونی طور پر برسوں تک پابند سلاسل رکھنے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی امنگوں کے برعکس غیر قانونی طور پر کشمیر کی آباد ی کا توازن تبدیل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل جاری کرنے جیسے مکروہ بھارتی ہتھکنڈوں کو ناکام بنایاجاسکے اور اس جانب اقوام عالم کی فوری توجہ دلائی جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس ادارہ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کے ساتھ باہم مربوط کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ ہم اس موقع پر حکومت پاکستان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے صحیح معنوں میں کشمیر ی عوام کی وکالت کی ہے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجار کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر میں ان تمام کشمیری بہن بھائیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتاہوں جو لائن آف کنٹرول کے اطراف بھارتی قابض افواج کی بلا اشتعال فائرنگ سے شہید یا زخمی ہوئے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے ہمیشہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور حد متار کہ پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے نہ سرف مادر وطن کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے بھارتی توپوں کو ہمشیہ کی طرح خاموش کر دیا بلکہ اپنے لہو سے مادر وطن کی آبیاری اور امن کی شمع روشن کی۔ ہم ان دھرتی کے بہادر جانبازوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی، قانون اور آئین کی حکمرانی، گڈگورننس اور میرٹ کی بالا دستی کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق کے تحفظ اور نظام فراہمی انصاف میں وکلا ء کا اہم کردار ہے۔ اس حوالے سے بار کونسل، انجمن ہائے وکلاء اور تمام وکلاء کا کردار قابل تحسین رہا ہے۔ وکلاء سے میر ی گزارش ہے کہ بار کونسل کے قواعد کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور پوری تیاری کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوں تاکہ معاشرے کے مظلوم افراد کی قانونی امدا د کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرسکیں۔ میں وکلاء کے مسائل کے حوالے سے بھی متعلقہ اداروں کی توجہ دلاوں گا کہ وکلاء کے دیرینہ حل طلب مطالبات مثلاًچیمبرز کی تعمیر و فراہمی، رہائشی کالونیوں کے لیے منصوبہ بندی اور طبی سہولتوں کی فراہمی جیسے امور پر توجہ دے کر انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کا ریاستی نظام میں کلیدی کردار ہے لہذا اس فورم کو ریاستی ادارہ کا درجہ دیا جانا چاہیے اور وکلاء کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ حال ہی میں بار کونسل سیکرٹریٹ کے لیے مناسب عمارت فراہم کی گئی ہے جو کہ انتہائی خوش آئندہ اقدام ہے اور مین وائش چیئرمین بار کونسل اور تمام اراکین کو اس سلسلہ میں خصوصی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر میں انتہائی خوشی کے ساتھ کہتا ہوں کہ عدالت عالیہ میں گزشتہ کم و بیش 8ماہ سے اکیلئے چیف جسٹس سماعت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کاندھوں پر بہت بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے انتہائی اہم فیصلے صادر کئے ہیں اور مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کی انجام دہی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔آزادکشمیر کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چیف جسٹس عدالت عالیہ کی جانب سے ماتحت عدلیہ کو کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کے موقع پر بھی ماتحت عدلیہ کو نئی گاڑیاں فراہم کرنے کے موقع پر بھی چیف جسٹس سپریم کورٹ اور معزز ججز سپریم کورٹ کو بطور مہمان خصوصی پزیرائی بخشی گئی جو دونوں اداروں کے مابین باہم اعتماد او رہم آہنگی کے لیے سنگ میل ہے اور ماضی میں اس طررح کی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ الحمداللہ عدلیہ کے ایک سنہرے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول جج سے لے کر ڈسٹرکٹ جج اور تحصیل فوجداری عدالت سے لے کر ضلعی فوجداری عدالت اور فیملی عدالت کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ جو ن میں الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی پیر وی کے لیے لا آفیسران میسر نہ ہونے کی بناء پر عدالتوں کا وقت ضائع ہوا جس کا ہم نے نوٹس لیا اور بالآخر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو حکومت کی جانب سے پیر وی مقدمات کی ہدایت ملی۔ یہ روش کسی طرح بھی قابل پذیرائی نہیں ہے۔ تحصیل وضلع میں مرکزی سطح پر پیر وی مقدمات کو موثر بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مقدمات کی تعدا د کے حساب سے جہاں چیف جسٹس ہائی کورٹ نشاندہی کریں اضافی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار شہریوں کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ کچھ مقامات پر ماتحت عدلیہ کو ضروری مکانیت کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی چیف جسٹس ہائی کورٹ کی نشاندہی پر مکانیت کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سروس ٹریبونل جو ایک انتہائی اہم ادارہ ہے کی سرکٹ بینچ میں کوئی مکانیت نہ ہے مناسب مکانیت فراہم کی جائے۔ اسی طرح ایڈووکیٹ جنرل کے ادارہ کو بھی سی مشکل کا سامنا ہے جو طویل عرصہ سے حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر اس طرف توجہ دے اور فراہمی عدل سے منسلک تمام اداروں کو ضروری مکانیت فراہم کرے تاکہ نظام فراہمی انصاف میں بہتری کی جانب گامزن ہوا جا سکے۔ آزادکشمیر جموں وکشمیر میں عدالتی آفیسران کی تربیت کے لیے جوڈیشل اکیڈمی، کیمیکل ایگزمینر اور فرانزک سائنس لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ کیونکہ ان اداروں کی کمی فوری اور موثر انصاف کی فراہمی میں حائل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ریاست کے اس اعلیٰ ترین ادارہ میں ججز کی تعیناتی اور چیف جسٹس عدالت عالیہ کی کنفریشن کے بعد عوام کے اعتماد میں اور بھی اضافہ ہو اہے۔ لیکن میری رائے میں انصاف کی فراہمی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ ہماری ترجیحات میں فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے اندر قانون کی مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ریاست کے اند ر تمام ادارے بشمول ماتحت عدلیہ اس ذمہ داری کے نبھانے میں عدالت عظمیٰ کی معاونت کے پابند ہیں۔ عدالت ہذا نے قانون کی عملدراری کے لیے کئی اہم فیصلہ جات صادر کرنے کے ساتھ ساتھ رہنماء اصولوں وضع کیے اور ہدایات بھی جاری کی ہوئی ہے ان پر موثر اور بروقت عملدرآمد ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر Automation پر کام جاری ہے اور کوشش ہے کہ مستقبل قریب میں سپریم کورٹ کے تمام دفاتر اور برانچزمیں E.communicationمیں اہم اہداف حاصل کر لئے جائیں گے۔ سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر میں ویڈیو لنک کے ذریعے پہلی بار سماعت کا آغاز 17جولائی 2021کو ہا جب میرپور میں ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی۔ سرکٹ راولاکوٹ میں ویڈیو لنک کی سہولت میسر نہ تھی لیکن میں نے اس جانب خصوصی توجہ دی کیوں کہ راولاکوٹ میں شدید سردی کے موسم میں برف باری اور بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کی بنا پر وکلاء اور عوام الناس کے لئے سفری مشکلات بڑھ جاتی ہیں اس لیے ویڈیو لنک کی سہولت ناگزیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عدالت سال کے دوران سرکٹ راولاکوٹ کو بھی ویڈیولنک کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور مورخہ 30جون 2021کو راولاکوٹ میں ویڈیو لنک کا نظام نصب کر دیا گیااور ویڈیو لنک کے ذریعہ مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوا۔ اس سے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے وکلاء اور فریقین مقدمہ کو سفری دشواریوں سے نجاب ملی جب کہ دوسری جانب وکلاء اور فریقین مقدمہ کو کثیر سفری اخراجات اور وقت کے ضاء سے نجات ملی۔اس وقت تک میرپور سرکٹ اور راولاکوٹ سرکٹ میں دائر ہونے والی فوری نوعیت کی درجنوں درخواستوں اور پٹیشنوں پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہو چکی ہے۔ وکلاء اور عوام الناس کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کو بیحدہ سراہا گیا ہے۔ میں اس موقع پر محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری ہدایت پر راولاکوٹ میں بھی ویڈیو لنک کی سہولت مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں اس موقع پر چیف سیکرٹری اور سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری اطلاعات کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کھلے دل سے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ کے مالی ودیگر معاملات میں دلچسپی لی اور تعاون کیا۔ چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر نے آخر میں کہا کہ ہم اس عظم نو کے ساتھ نئے عدالتی سال کا آغاز کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہم دوران عدالتی سال اپنی تمام ترصلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فراہمی انصاف کے لیے اپنی خدمات سر انجام دینے میں کامیاب اور سرخووہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی مد د اور رہنمائی فرمائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل وسیم یونس ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء فوری اور سستے انصاف کی فراہمی، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور اعلیٰ پیشہ وارانہ اصولوں کی بجا آوری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور اس سلسلہ میں عوام کی امیدوں اور خواہشات پر پورا اترنے کی ہر ممکن جستجو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں محنت، لگن اور پیشہ وارانہ اصولوں کے مطابق معاشرتی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ محمد الطاف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ معاشرہ کو مستحکم بنانے کے لیے ہمیں عدل و انصاف عین اسلام اور مروجہ قوانین کے مطابق کرنا ہوگا۔ میں اس موقع پر چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کر تاہوں کہ آپ نے عدل وانصاف کے لیے جو اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ چیف جسٹس اوران کی ٹیم کو مزید محنت، لگن، جذبہ او ر عین انصاف کے مطابق کام کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق دے۔
Muzaffarabad (15th September 2021):
Mr. Justice Khawaja Muhammad Nasim, Hon’ble Senior Judge Supreme Court of Azad Jammu & Kashmir has been sworn in as Acting Chief Justice of Azad Jammu and Kashmir.
Muzaffarabad (25th August,2021):
Hon’ble Chief Justice of Azad Jammu and Kashmir Mr. Justice Raja Saeed Akram Khan administered the oath of office to Newly elected President of Azad Jammu and Kashmir, Barrister Sultan Mehmood Chaudhry. The oath taking ceremony was held at the High Court Ground Muzaffarabad on 25th August,2021.

مظفر آباد:

  وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم خان نیازی سپریم کورٹ آمد کے موقع پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر راجہ سعید اکرم خان، سینئرجج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان سے ملاقات کر رہے ہیں

Muzaffarabad (14th August,2021):

 

Hon’ble Chief Justice of Azad Jammu & Kashmir, graced the Flag hoisting ceremony held on 14th August 2021, to celebrate the 74th Independence Day of Pakistan. The ceremony was also attended by Hon’ble Judges Supreme Court of AJ&K, Hon’ble Chief Justice High Court of AJ&K along with Vice- Chairman Bar Council, President Central Bar Muzaffarabad, General Secretary Supreme Court Bar, General Secretary High Court Bar, Senior Advocates Supreme Court, Officers & staff members of Supreme Court.
Muzaffarabad (12-05-2021):
Hon’ble Senior Judge Supreme Court, Mr. Justice Khawaja Muhammad Nasim along with Mr. Justice Raza Ali Khan, Judge Supreme Court, presiding over a meeting of Building Committee at Supreme Court building Muzaffarabad on 12-08-2021.
مظفرآباد (2021-07-13)
: چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر مسٹر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے بدھ کے روز سپریم کورٹ بلڈنگ مظفر آباد میں میڈیکل یونٹ کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں معزز سینئر جج سپریم کورٹ مسٹر جسٹس خواجہ محمد نسیم ، مسٹر جسٹس رضا علی خان ، جج سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹ مسٹر جسٹس صداقت حسین راجہ ، ایڈووکیٹ جنرل ، ڈی جی ہیلتھ ، وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ، صدر ہائیکورٹ بار ، جنرل سکریٹری ہائی کورٹ بار ، سینئر وکلاء اور دیگر سرکاری افسران نے شرکت کی-

Muzaffarabad 06-07-2021
Muzaffarabad 06-07-2021
مظفرآباد 30جون2021
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے راولاکوٹ سرکٹ میں ویڈیو کانفرنس کا افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب سپریم کورٹ میں منعقد کی گئی۔جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان کے علاوہ افتتاحی تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ شیخ راشد مجید،ایڈووکیٹ جنرل راجہ انعام اللہ خان، وائس چیرمین بار کونسل خواجہ محمد مقبول وار، ممبر بار کونسل سردار محمد ریاض ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار راجہ الطاف ایڈووکیٹ،سیکرٹری ہائی کورٹ بار سید زوالقرنین نقوی ایڈووکیٹ، سیکرٹری محکمہ اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی محترمہ مدحت شہزاد، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد رفیق و دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سرکٹ راولاکوٹ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 4 مقدمات میں بحث وسماعت کی اور سر اجلاس فیصلے صادر فرمائے۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کی خصوصی دلچسپی سے راولاکوٹ سرکٹ کو ویڈیو لنک کے ساتھ منسلک کرنے کے سلسلہ میں چیف جسٹس نے سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کو سراہا۔وائس چیرمین بار کونسل سپریم کورٹ اورہائی کورٹ بار کے عہدیداران و اراکین کے علاوہ سینئر وکلا نے راولاکوٹ سرکٹ کو ویڈیو لنک کے ساتھ منسلک کرنے پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کو خراج تحسین پیش کیا۔ راولاکوٹ بار کی جانب سے تمام وکلا اور عوام کی جانب سے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور خصوصی شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ویڈیو لنک کی سہولت سے ایک جانب فوری فراہمی انصاف میں مدد ملے گی اور شدید سردی اور برف باری یا بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ وغیرہ کی وجہ سے سفری دشواریوں کے دوران سرکٹ راولاکوٹ سے ہی فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ممکن ہو سکے گی۔علاوہ ازیں ویڈیو لنک کی وجہ سے فریقین مقدمہ کے سفری اخراجات میں خرچ ہونے والے کثیر سرمایہ کی بچت کے ساتھ ساتھ وکلا کے قیمتی وقت کی بھی بچت ہو گی۔کل بھی راولاکوٹ سرکٹ میں دائر مقدمات کی سماعت ویڈیولنک پر جاری رہے گی۔
مظفرآباد 30جون 2021
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان جج سپریم کورٹ نے سابق ممبر کشمیر کونسل و رکن قانون ساز اسمبلی سردار صغیر چغتائی کی وفات پر ان کے والد گرامی، بھائی و دیگر لواحقین کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں بنگوئیں کے مقام پر جا کر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیرجسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان نے مرحوم کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی وفات کو ایک ناقابل تلافی نقصان اور سانحہ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ فلاح انسانیت کے لیے مرحوم نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی جو سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
مظفرآباد 30جون 2021
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان جج سپریم کورٹ نے سابق جج ہائی کورٹ راجہ سجاد احمد خان کی والدہ محترمہ کی وفات پر ان کے گھر جا کر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔
Muzaffarabad : 09-June-2021
Hon’ble Chief Justice of AJ&K, Mr. Justice Raja Saeed Akram Khan along with Hon’ble Mr. Justice Raza Ali Khan Judge Supreme Court, while presenting shield to Alexander Evans Deputy High Commissioner British High Commission.
مظفرآباد 8جون 2021
چیئرمین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اعجاز رضا نے اعلی عدلیہ میں ویکسی نیشن اور ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کے لیے واٹر کولر کی فراہمی شروع کر دی۔گزشتہ روز چیئرمین ریڈ کریسنٹ کی جانب سے چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان جج سپریم کو رٹ کو ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں کورٹ رومز کے باہر اور مین پبلک کے مقامات پر پانی کے فلٹر کولر اور طبی امداد کی کٹس مہیا کی گیئں۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے آزاد کشمیر کی تمام مرکزی اور ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز اور ماتخت عدلیہ کے تمام عدالتی عملہ کے لیے ویکسی نیشن، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی سہولت اور فرسٹ ایڈ کٹس کے ساتھ ساتھ طبی امداد کی تربیت کا اہتمام لازمی قرار دیا۔ چیئرمین ریڈ کریسنٹ نے چیف جسٹس کی تجاویز پر جلد از جلد عمل کی یقین دھانی کروائی ہے۔
Muzaffarabad : 08-June-2021
Hon’ble Chief Justice of AJ&K, Mr. Justice Raja Saeed Akram Khan along with Hon’ble Mr. Justice Raza Ali Khan Judge Supreme Court, presenting shield to Mr. Akbar Tar Additional  Prosecutor General N.A.B.
میرپور 31 مئی 2021
چیف جسٹس آزادجموں وکشمیرسپریم کورٹ جناب راجہ سعید اکرم خان مستقل چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا حلف لینے کے بعد میرپور سپریم کورٹ ریسٹ ہاوس پہنچے تو آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس جناب خواجہ محمدنسیم اور جسٹس جناب رضاعلی خان نےانھیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ویلکم کیا ۔چیف جسٹس آزادکشمیرجناب راجہ سعیدم اکرم خان سپریم کورٹ کے ججز صاحبان کے ہمراہ جب سپریم کورٹ بلڈنگ میرپور پہنچے تو سپریم کورٹ کے جملہ افسران و ملازمین نے شاندار استقبال کیا گیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اورپھولوں کے گلدستے پیش کیے۔چیف جسٹس جب تقریب میں پہنچے تو شرکاء نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نےانہیں گارڈ آف آنر پیش کیا اور سلامی دی۔ گارڈ آف آرنرکی تقریب کے موقع پر آزاد کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل راجہ انعام اللہ خان،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ فیصل مجید،کمشنر چوہدری محمد رقیب خان،ڈی آئی جی میرپور رینج چوہدری سجاد حسین،ڈپٹی کمشنر بدر منیر،ایس ایس پی راجہ عرفان سلیم،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن فاروق احمد منہاس،صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بابرعلی خان، صدر ڈسٹرک بار ایسوسی ایشن مسعود اے شیخ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راجہ زبیرکیانی، سعادت علی ایڈووکیٹ، راجہ وسیم خان ایڈووکیٹ، ممبران بار کونسل، سینئروکلاء بھی موجود تھے۔ اس موقع پرچیف جسٹس آزادجموں وکشمیرراجہ سعید اکرم خان کو مبارک دینے والوں وکلاء کا تانتا باندھ گیا اور ان کی مستقل تعیناتی پر انہیں سے مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کااظہارکیا۔سینئر وکلاء نے چیف جسٹس آزاد کشمیر راجہ سعید اکرم خان اور سپریم کورٹ کے ججز صاحبان سے ملاقاتیں بھی کیں۔بعد ازاں چیف جسٹس آزاد کشمیر نے عدالتی مقدمات کے حوالے سے سٹاف کو ہدایات دیں۔

Hon’ble Chief Justice Azad Jammu and Kashmir Mr. Justice Raja Saeed Akram Khan on Wednesday administered oath of office to Khawaja Muhammad Naseem and Raza Ali Khan Advocate as judge of Supreme Court of Azad Jammu and Kashmir . The oath-taking ceremony was held at the Supreme Court Building Muzaffarabad.

چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان بحیثیت چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر حلف اٹھانے کے بعد منگل کے روز سپریم کورٹ پہنچے تو آزاد کشمیر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

Hon’ble Justice Raja Saeed Akram Khan took the oath as Chief Justice of Azad Jammu & Kashmir today 18th May,2021. In a ceremony held at Aiwan-i-Sadr in Muzaffarabad, President Sardar Masood Khan administered the oath to Justice Raja Saeed Akram Khan. Prime Minister Raja Farooq Haider Khan, Acting Chief Justice of the High Court Justice Sadaqat Hussain Raja, members of the Cabinet, members of the Legislative Assembly, former Chief Justice Ch. Muhammad Ibrahim Zia, Vice Chairman Bar Council and Deputy Attorney General of Pakistan.  Raja Khalid Mahmood, Senior lawyers of the Supreme Court and High Court and judicial officers attended the oath-taking ceremony.

مظفرآباد 13 اپریل 2021 ء
قائمقام چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے آزادکشمیر میں جاری موسم بہار کی شجر کاری مہم کے سلسلہ میں آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کے سبزہ زار میں پودا لگایا۔ علاوہ ازیں سینئر جج آزاد جموں وکشمیر عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ، سابق چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء، صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب خان اورایڈووکیٹ جنرل راجہ انعام اللہ خان نے بھی پودے لگایے۔ شجرکاری کی اس تقریب میں سیکرٹری جنگلات سید ظہور الحسن گیلانی، سپریم کورٹ و ہائی کورٹ بار کے عہدیداران واراکین، سینئر وکلاء، خواتین وکلاء اور محکمہ جنگلات کے آفسیران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ کشمیر کی خوبصورتی جنگلات سے ہے، گرین کشمیر ہی ہمارا مشن ہے اس کی تکمیل کے لیے ہر سال درخت لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا بھی حکم ہے کہ جس نے ایک درخت لگایا اس نے جنت میں اپنا گھر بنایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت درختوں کی بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے حکام کو کہتا ہوں کہ درخت لگانے سے زیادہ درختوں کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال شجر کاری کی مد میں کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ درخت زمین پر بھی نظر آنے چاہیں۔ صرف درخت لگا کر چھوڑنا نہیں چاہیے، ان کی حفاظت بھی یقینی بنائی جائے۔

 
01-April-2021
Honorable Chief Justice of Azad Jammu & Kashmir Mr. Justice Raja Saeed Akram Khan addressing the senior officers of the Supreme Court during an important staff meeting held at Principal Seat Muzaffarabad today the 1st of April, 2021.
 
مظفرآباد /میرپور 23مارچ
یوم پاکستان کے موقع پر سپریم کورٹ آف آزاد جموں وکشمیر مرکزی دفتر مظفرآباد و سرکٹ بنچ ہاء میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئیں۔ مرکزی دفتر مظفرآباد میں ڈپٹی رجسٹرار جبکہ برانچ رجسٹری میرپور میں رجسٹرار سپریم کورٹ نے پرچم کشائی کی۔ پرچم کشائی کی تقریبات میں آفیسران سپریم کورٹ و عملہ شریک ہوئے۔ تقریب کے موقع پر پاکستان کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزاد ی اور کورونا وائر س میں مبتلا لوگوں کی مکمل اور جلدشفا یابی کے لئے دعائیں کی گئیں۔

 

نیلم 11 مارچ    2020

چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعیداکرم خان نے کہاہے کہ جج کاعہدہ بڑی آزمائش ہے عہدے کی شان پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔عدالت کاکام انصاف پر مبنی فیصلے کرنا ہے اور عدالت کے احترام کو ہر صورت قائم رکھا جائے۔ ججز کو دلیری کیساتھ فیصلے کرنے چاہیں۔ انصاف کی فراہمی ججز اور وکلاء کی ذمہ داری ہے۔ ڈسٹرکٹ بار نیلم کے نومنتخب عہدیداران نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعیداکرم خان نے ڈسٹرکٹ بار نیلم کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیلم کا خطہ مجاہدوں اور شہداء کا خطہ ہے کسی کی پسند و نا پسند پر فیصلے نہیں دئے جا سکتے مضبوط عدلیہ کیلئے مضبوط بار کا ہونا لازم ہے۔عدالتوں کاکام فیصلے کرناہے ججز کو آئین وقانون کے مطابق دلیری کیساتھ فیصلے کرنے چاہئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صداقت حسین راجہ جسٹس عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر نے کہاہے کہ بار اور بینچ کے رشتہ کومضبوط بنانے سے عوام تک فوری انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ عدالتوں میں ججز کو انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیے۔انصاف پر مبنی فیصلے کر تے رہیں گے۔ وکلاء اور عدلیہ کا باہم رشتہ احترام کا ہے۔ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے۔ تقریب سے وائس چیئرمین بار کونسل خواجہ مقبول وار ایڈووکیٹ، صدر بار امجد حسین لون و دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں سابق وزیر تعلیم سکولز میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ، سابق صدر بار میرنذیر دانش ایڈووکیٹ، سید شاہد بہار ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، راجہ اطہر علی خان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نیلم،اسسٹنٹ کمشنر سید عمران عباس نقوی، ضلع قاضی رشید گل، شیخ ایاز میر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نیلم، خواجہ حبیب الرحمن سینئر سول جج نیلم، احسن الحق سینئرتحصیل قاضی آٹھ مقام،افتخار خواجہ سول جج اٹھ مقام، ہارون الرشید ایڈیشنل تحصیل قاضی اٹھ مقام، خواجہ محمدسلطان ایکسٹر اسسٹنٹ کمشنر اٹھ مقام، عارف حمید پی ڈی ایس پی، سردار ظہیر ڈی ایس پی اٹھ مقام، میر گوہر الرحمن ایڈووکیٹ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار نیلم، عبدالعزیز مغل سابق ممبر بارکونسل سردار ریاض خان ممبربارکونسل سمیت دیگر وکلاء، صحافیوں، سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی اور نومنتخب ممبرڈسٹرکٹ بار نیلم کو مبارکباد پیش کی۔ حلف لینے والے نو منتخب عہدیداران میں امجد حسین لون ایڈووکیٹ صدر، میر سجاد گوہر ایڈووکیٹ نائب صدر، مفتی مظہر الزمان ایڈووکیٹ سیکرٹری جنرل، محترمہ جوریہ عروج جائنٹ سیکرٹری، سید صدام حسین کاظمی ممبرایگزیکٹیو کمیٹی، عبدالصمود اعوان ایڈووکیٹ ممبرایگزیکٹو کمیٹی، راجہ راشد بصیر ایڈووکیٹ و دیگر شامل تھے۔

 

اسلام آباد   7مارچ 2021

چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ملینیم یونیورسل کالج اسلام آباد میں 21ویں صدی میں انسانی حقوق کے تحفظ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں سابق چیف جسٹس گیمیاجسٹس علی نواز چوہان، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان حسن رضا پاشا، نامور وکیل اور سیاستدان احمد رضا قصوری، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان افشاں غضنفر، سابق جج ڈاکٹر ساجد قریشی اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ قوسین فیصل مفتی نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35-Aکو ختم کرنے اور بھارت میں صریحاً مسلمہ عالمی قوانین و خلاف انسانیت مسلم دشمنی پر مبنی قانون سازی کرنے کی وجہ سے نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کو تباہی اور جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ بھارتی چہرہ دستیوں کو لگام دینے میں تاخیر عالمی امن کے حوالے سے خدشات بڑھا رہی ہے۔ 73 سال گذر جانے کے باوجود کشمیر میں استصواب رائے نہ ہونا عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کا دوہرا معیار اور ناکامی ہے۔ کشمیری بھارت کا جابرانہ تسلط کسی طور بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔بھارتی قابض افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم، بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، حراستی قتل عام کے بڑھتے ہوئے واقعات،محاصروں، گھر گھر تلاشیوں اور خواتین کی آبروریزیوں کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث بھارتی انتہاء پسند حکومت اور دیگر اداروں کی جانب سے مکمل سرپرستی اور تحفظ فراہم کیئے جانے کی پالیسیوں پر آنکھیں بند کر کے اگر عالمی طاقتوں نے اس کھیل کو اسی طرح جاری رہنے دیاور برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ اور سبب بننے والے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، مسلمہ بین الاقوامی اصولوں، کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق فوری حل کروانے کی قابل عمل اور سنجیدہ کوششیں نہ کیں تو نہ صرف خطے کے عوام بلکہ پوری انسانیت کو اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر راجہ سعید اکرم خان کو کالج کی طرف سے شیلڈ پیش کی گئی۔

Muzffarabad (04th March, 2021)

62nd Shariah (Islamic Law) Course Trainees of the Shariah Academy of International Islamic University, Islamabad visited the Supreme Court of Azad Jammu & Kashmir today 4th March, 2021.

مظفرآباد 03 مارچ 2021

جسٹس غلام مصطفی مغل سابق سینئر جج سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کےاعزاز میں عدلیہ کے لیے شاندار خدمات پر اپنے عہدہ کی آئینی مدت مکمّل کرنے کے بعد بھی الوداعی دعوتوں کا سلسلہ  جاری، گزشتہ روز اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل خورشیدِ انور مغل کی جانب سے جسٹس غلام مصطفی مغل کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ تقریب میں جسٹس راجہ سعید اکرم خان چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر،قائم مقام چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس اظہر سلیم بابر ، سینئر جج عدالت العالیہ جسٹس محمد شیراز کیانی، جسٹس صداقت حسین راجہ جج عدالت العالیہ، سابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء ، ایڈووکیٹ جنرل آزادجموں وکشمیر راجہ انعام اللہ خان، سابق ایڈووکیٹ جنرل کرم داد ایڈووکیٹ، اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل راجہ ایاز فرید، صدر تحصیل بار نصیر آباد راجہ امجد عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل تحصیل بار نصیر آباد راجہ داود احمد خان، سابق صدر تحصیل بار پٹہکہ راجہ خورشیدِ خان ایڈووکیٹ، راجہ سعید خان ایڈووکیٹ، نصیر احمد راجہ ایڈووکیٹ و دیگر نے شرکت کی.

مظفرآباد 02 مارچ 2021

چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان شاہد علی اعوان ایڈووکیٹ کے والد محترم کی وفات پر فاتحہ خوانی کر رہے ہیں