Muzaffarabad : 05th Oct, 2020 CEREMONY OF THE NEW JUDICIAL YEAR 2020-21 OF THE SUPREME COURT OF AZAD JAMMU & KASHMIR (AJ&k) Ceremony of the new Judicial Year 2020-21 of the Supreme Court of AJ&K was held at Supreme Court Building Muzaffarabad on Monday, 5th October 2020.

Muzaffarabad : 05th Oct, 2020

CEREMONY OF THE NEW JUDICIAL YEAR 2020-21 OF THE SUPREME COURT OF AZAD JAMMU & KASHMIR (AJ&K)

چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ آئین کی بالا دستی، شہریوں کے بنیادی حقوق و آزادیوں کا تحفظ، قانون کی حکمرانی، عام آدمی کا انصاف تک رسائی، فوری اور موثر انصاف کی فراہمی اور گڈ گورننس کسی بھی ریاست کی ترقی اور بقا کے لئے بنیادی تقاضے ہیں اور ان سارے اہداف کا حصول ایک آزاد عدلیہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ آزاد کشمیر میں عدالتوں نے پہلے بھی کسی قسم کے دباؤ کی پرواہ کئے بغیر فیصلے کئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہونا ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ جج خواہ کسی بھی عدالت کا ہو اس کے کاندھوں پر انصاف فراہم کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ماتحت ہو یا اعلیٰ عدلیہ تمام ججز صاحبان دلیرانہ اور آزادنہ فیصلے انصاف کے اصولوں اور میرٹ کے مطابق کریں اور کسی بھی قسم کی سفارش، اقربا پروری یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جانا چاہیے۔ لا کمیشن اور جوڈیشل اکیڈمی کا قیام نظام فراہمی عدل و انصاف کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آزاد جموں وکشمیر اور پاکستان کی تمام بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسل کے علاوہ پاکستان کی عوام، حکومت مسلح افواج اور انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کے تسلیم شدہ حق رائے دہی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور اقوام متحدہ کی جانب سے کشمیریوں کا حق رائے دہی تسلیم کرتے ہوئے کشمیریوں کو بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی دلانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے علاوہ انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیریوں کو ان کا تسلیم شدہ حق رائے دہی دلانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ ریاست کے تمام ادارے شہریوں کے حقوق کے تحفظ، میرٹ کی بالادستی، سفارش اور اقربا پروری سے پاک، کرپشن فری سسٹم کو فروغ دیں تو ایسی صورت میں عوامی شکایات اور معاملات عدالتوں تک نہیں آپائیں گے اور نہ ہی کسی شہری کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں درخواست یا شکایت کی ضرورت پیش آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال 2020-21کے آغاز پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے رجسٹرار سپریم کورٹ شیخ راشد مجید، ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں وکشمیر راجہ انعام اللہ خان ایڈووکیٹ، وائس چیئرپرسن بار کونسل نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر آزادکشمیرکے وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر، سابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء، سیکرٹری اطلاعات محترمہ مدحت شہزاد، چیئرمین سروس ٹریبونل آزاد جموں وکشمیر خواجہ محمد نسیم خان، ممبران سروس ٹریبونل، صدر سپریم کورٹ بار، ہائی کورٹ بارسنٹرل بار کے صدر ناصرمسعودمغل،ضلعی و تحصیل بارایسوسی ایشن آزادکشمیر کے عہدیداران و اراکین بار کونسل، سینئر وکلاء بھی موجود تھے۔ اس موقع پر رجسٹرار آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ شیخ راشد مجید نے وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر، چیئرمین سروس ٹریبونل خواجہ محمدنسیم، سیکرٹری اطلاعات محترمہ مدحت شہزاد، راجہ انعام اللہ خان ایڈووکیٹ جنرل، وائس چیئرمین بارکونسل نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ، صدر سنٹرل بار ناصر محمود مغل، صدر ہائی کورٹ بار راجہ آصف بشیر، سیکرٹری قانون ارشاد احمد قریشی کو سپریم کورٹ کی سالانہ رپورٹ بھی دی۔چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس غلام مصطفی مغل 2020کے آخر میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں تقریبا ًتین ماہ رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایک مستقل جج کی تقرری ہونا ہے۔ ایسی صورتحال میں لیگل فریٹرنٹی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو قبل از وقت اس سلسلہ میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس و ججز صاحبان عدالت عدلیہ /شریعت اپیلیٹ بینچ اور چیئرمین و اراکین سروس ٹربیونل، ضلع عدلیہ کے ججز اور قاضی صاحبان کی خدمات اور کارکردگی کو بھی سراہتا ہوں کہ انہوں نے نظام فراہمی ا نصاف می بھر پور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر بار کونسل، سپریم کورٹ بار، ہائی کورٹ بار،سنٹرل بار اور تمام ضلع و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کے ساتھ ساتھ وکلاء برادری کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے انصاف کی فراہمی میں عدالتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات قابل ستائش رہے۔ہماری خواہش ہے کہ راولاکوٹ سرکٹ کو بھی ویڈیو لنک کے ساتھ جلد از جلد منسلک کر دیا جائے۔ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے توقع ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر راولاکوٹ سرکٹ کو بھی ویڈیو لنک کے ساتھ منسلک کرنے کے سلسلہ میں فوری اقدامات عمل میں لائیں گے تاکہ عوام اور وکلاء کے لئے سہولت کے ساتھ ساتھ فوری فراہمی انصاف کے لئے ہم ایک قدم مزید آگے بڑھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی عدالتی نظام میں ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے اور اس کا قیام قانون سازی کے ذریعہ عمل میں لایا گیا ہے۔ اس ادارہ کا کام پوری عدلیہ کے لئے ایک جامع پالیسی وضع کرنا ہے اور اس پالیسی پر عمل درآمد کی ذمہ داری عدالت عالیہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت کے سلسلہ میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں 2019 میں ویڈیو لنک کے ذریعے فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کا فیصلہ کیا کیوں کہ سرکٹ میرپور اور سرکٹ راولاکوٹ سے وکلاء صاحبان اور شہریوں کے قیمتی وقت کے ضیاع اور کثیر اخراجات سے بچنے کے ساتھ ساتھ انصاف کی فوری فراہمی وقت کا تقاضا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں 2019 کے بعد کے دائرہ مقدمات ہی زیر کار ہیں۔ 2018 یا اس سے قبل کا اگر کوئی مقدمہ زیر کار ہے بھی تو اس کی کوئی ٹیکنیکل وجہ ہی ہو سکتی ہے۔ کرنٹ ڈسپوزل کا یہ سلسلہ انشاء اللہ مستقبل میں بھی قائم رہے گا اور اس کے لئے وکلاء کا تعاون بنیادی شرط ہے۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور عدالتی پالیسی کا حصہ بھی۔ وکلاء عدالتوں میں تیاری سے آئیں تاکہ فوری اور مؤثر انصاف کی فراہمی کا سلسلہ جاری و ساری رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ میں آزاد جموں و کشمیر عدلیہ کے تمام ججز صاحبان کو داد تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جنھوں نے اس وبائی دورانیہ میں عدالتوں میں مقدمات کی سماعت جاری رکھی اور وکلاء صاحبان کو بھی سراہتا ہوں جنھوں نے اس وبائی مرض کے دوران لاک ڈاؤن اور دیگر مشکلات کے با وجود اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر عدالتوں میں پیش ہو کر عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے عدالتوں کی معاونت کی۔
وائس چیئرپرسن بارکونسل محترمہ نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر کی مستقل تقرری عمل میں لانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مثالی معاشرے کے قیام کے لیے انصاف کی فراہمی، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی عدلیہ نے سائلین کی پریشانیوں کے ازالہ کے لئے فرائض منصبی جاری رکھے اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے مقدمات کی سماعت جاری رکھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل راجہ انعام اللہ خان نے کہا کہ نظام فراہمی انصاف، فوری اور مفاد عامہ کے مقدمات کی بروقت یکسوئی پر چیف جسٹس اور سینئر جج سپریم کورٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے دوران بھی عوام کے مقدما ت کی سماعت جاری رکھی جس پر عدلیہ مبارکباد کی مستحق ہے اس موقع پر سپریم کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کا مطالبہ کر تے ہیں تاکہ عدلیہ بہتر طور پر کام کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء،فوری اور سستے انصاف کی فراہم، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ صدر سپریم کورٹ بار خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج کا دن آزاد کشمیر کی عدلیہ کے لیے یوم تجدید عہد کے ساتھ یوم احتساب کا دن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں وکلاء نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کے تحفظ، میرٹ کی بالادستی کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نظام عدل میں اصلاحات کو جو سلسلہ عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے زیر انتظام شروع ہو وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بینچ کا رشتہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جب بھی عدلیہ پر حرف کی بات آئی وکلاء ہر اول دستہ کے طو ر پر کھڑے رہے اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔
٭٭٭٭