خطاب چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر بر موقعہ آغاز عدالتی سال 19-2018

خطاب چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر بر موقعہ آغاز عدالتی سال 19-2018

فاضل بھائی جج صاحبان،

جناب وزیر قانون ، انصاف پارلیمانی اُمور و انسانی حقوق،ایڈیشنل چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموںو کشمیر، سیکرٹری قانون ، ایڈووکیٹ جنرل، محترمہ سیکرٹری اطلاعات و ابلاغ عامہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و ابلاغ عامہ ،ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ،وائس چیئرمین  بار کونسل

صدور ،عہدیداران ممبر ان و اراکین  عدالت عظمیٰ ، عدالت العالیہ ، ضلعی و تحصیل انجمن ہائے وکلاء آزاد جموں و کشمیر،نمائندگان میڈیا

دیگر معزز شرکاء تقریب،  خواتین و حضرات،

 السلام علیکم!

سب تعریفیں خالق کائنات  کے لئےجس  سےاپنے سب کاموںمیں استعانت کے طلبگارہیں اور اپنی تمام  کمزوریوں ، کوتاہیوں  پر اسی سے معافی کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ اپنی کوششوں اور کاوشوں کی ثمر آوری کے لئے اسی ذات پر کامل توکل ہے۔

ھماری ساری عقیدتیں، محبتیں اور  درود و سلام، نبی رحمت ﷺ پر جو  وجہ تخلیق کائنات ہیں جن پر دین اور نبوت کی تکمیل ہوئی، اور  انسانیت کو  دنیاوی اور اخروی فلاح کے لئے کامل شریعت اور قانون نصیب ہوا۔

 خالق کائنات کی توفیق سے ایک اور عدالتی سال مکمل کرتے ہوئے نئے عدالتی سال کا آغازکر رہے ہیں۔  میں اپنے فاضل بھائی  جج صاحبان کی بصیرت، انتھک محنت اور لگن کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا جس بناء پر ہم نظام فراہمی انصاف  کی منزل کی طرف  گرانقدر پیشرفت کرسکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ  کے تمام عملہ کی کارکردگی کو بھی سراہتا ہوں جنھوں نے شبانہ روز محنت کر کے فراہمی انصاف میں اہم کردار ادا کیا  ۔ اللہ کے فضل و کرم سے سال بھر میں عدالتی عملہ کے حوالہ سے کسی بھی قسم کی بد معاملگی، نااہلی، بددیانتی یا عام لوگوں سے کسی قسم کی بد اخلاقی کی کوئی شکایت نہ پائی گئی ہے۔ سپریم  کورٹ کے عملہ کے کردار کے حوالہ سے وکلاء اور عوام الناس کی طرف سے اطمینان کا اظہار عملہ کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا واضح ثبوت ہے۔  توقع رکھتا ہوں  کہ اس منفرد انداز و کردارکو نہ صرف برقرار رکھیں  گےبلکہ اس میں مزید بہتری لا کر باقی  تمام ریاستی اداروں کے لئے قابل تقلید مثال قائم کریں گے۔

عدالت عظمیٰ کی آئینی حیثیت اور نظام فراہمی انصاف:۔آئین کی  منشاء اور دیگر قوانین رائج الوقت کے تحت نظام عدل میں عدالت عظمیٰ کو خاندانِ عدل کا سربراہ (pater familia) کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے آئین میں عدالت عظمیٰ کو نہ صرف قانون کی تعبیر و تشریح اور نفاذ کا حتمی اختیار تفویض ہوا بلکہ ریاست کے اندر تمام عدالتیں اور انتظامی ادارے اورحکام عدالت عظمیٰ کی اس آئینی حیثیت کی منشاء کے مطابق معاونت کرنے اوراس کےاحکامات پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

          اس آئینی تقاضے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عدالت ہذا نے مقدمات کو یکسو کرتے ہوئے جہاں پر حالات و واقعات اورقانونی تقاضوں کے مطابق فراہمی نظام عدل میں بہتری اور تیزی لانے کے لیے یا کسی قانون میں   تبدیلی کی ضرورت محسوس کی یا کہیں قانون کی خلاف ورزی اور سینہ زوری کی بناء پر عدالتی فیصلوں  اور احکامات کو نظر انداز کرنے کا تاثر دیکھا تو عدالت  نے ان پہلوؤں کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ طبع شدہ سالانہ رپورٹ میں ایسے کچھ مقدمات کااجمالاً تذکرہ کیا گیا ہے جن کے فیصلہ جات کی روشنی میں عدالتی احکامات کے مطابق ضروری قانون سازی عمل میں آئی۔ شریعت کورٹ اپیلٹ بینچ ایکٹ، پبلک سروس کمیشن ایکٹ و قواعد ، مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908ء کی منشاء کے مطابق عدالت العالیہ میں قواعد کمیٹی کی تشکیل اور اس کمیٹی کے ذریعے فوری فراہمی انصاف کے لیے ضروری ترامیم اورسروس ٹربیونل ایکٹ و قواعد کی تشکیل وغیرہ جیسے اہم اقدامات عدالت ہذا کے فیصلوں کی روشنی میں اُٹھائے گئے۔

          اسی طرح عدلیہ کی تاریخ میں قانون پر عملدرآمد کی نئی مثالیں قائم کی گئیں جن میں ایک مجبور اور بے کس شخص کی حق تلفی پر حکومت کے وزیر سے ذاتی طور پر  چھ ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی اور سیکرٹری کشمیر کونسل اور کشمیر کونسل سے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ہم نے یہاں پر یہ تذکرہ اس لیے ضروری سمجھا کیونکہ عدالتوں کا بنیادی فریضہ معاشرہ میں بلا امتیاز قانون کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔

 

عدالتی کارکردگی:عدالتی سال 2017-18 میں عدالت ہذا کی کارکرگی اعداد و شمار کے آئینے میں کچھ اس طرح ہے:۔

Pendency as of 30th Sept, 2017

Institution

Total

Decisions

Balance

913

1585

2498

1948

550

          عدالت ہذا کی مجموعی کارکردگی اعداد و شمار کی روشنی میں رپورٹ میں درج ہے جس کودہرا کر مزید آپ کا وقت وقت لینا مطلوب نہ ہے۔ الحمد للہ ! میرے بھائی جج صاحبان کی محنت ، لگن اور عملہ کے تعاون سے عدالت عظمیٰ میں سابقہ مقدمات زیر کار نہ ہیں بلکہ رواں مقدمات ہی زیر تصفیہ ہیں۔ فیصلہ شدہ مقدمات کا تناسب جدید دائر کردہ اور سابقہ مقدمات سے زیادہ ہے اس طرح ہمارا تناسب خسارے کے بجائے منافع میں ہے۔

عدالت العالیہ/شریعت کورٹ  کی کارکردگی اور مطلوبہ اقدامات: ۔نظام فراہمی عدل میں عدالت العالیہ اور اس کے شریعت اپیلیٹ بینچ کی مرکزی اور کلیدی حیثیت ہے ۔ اس عدالت پر نہ صرف مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری ہے بلکہ تمام ماتحت عدالتوں کی مکمل نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ اور اس کو بہتر بنانا بھی اس عدالت کے فرائض میں شامل ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ ماضی میں شریعت کورٹ اور عدالت العالیہ کے اختیار سماعت کا معاملہ زیر کار رہا جو بالآخر شریعت اپیلیٹ بینچ ایکٹ 2017ء کی صورت میں طے ہوا۔ مابعد ججز کی کمی کا سامنا رہا جس بناء پر زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوگیا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ سال گزشتہ میں نہ صرف نئے ججز کی تقرریاں عمل میں آئیں بلکہ عدالت العالیہ کے ججز نے ایک ماہ کی گرمائی تعطیلات کی قربانی دی اور آزاد کشمیر عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار عدالت العالیہ اور شریعت کورٹ کے سارے بینچز فعال ہوئے جس سے قابلِ قدر تعداد میں مقدمات یکسو ہوئے۔عدالت العالیہ اور اس کے شریعت اپیلیٹ بینچ کی گزشتہ سال کی کارکردگی اعداد و شمار کی روشنی میں ذیل ہے:۔

High Court

Pendency as of 01.08.2017

 

Institution from 01.08.2017 to 31.08.2018

Total

Decision 01.08.2017

to 31.08.2018

Balance on 09.01.2018

8589

5182

13771

5632

8139

 

 

Shariat Appellate Bench of High Court

Pendency as of 01.08.2017

 

Institution from 01.08.2017 to 31.08.2018

Total

Decision 01.08.2017

to 31.08.2018

Balance on 09.01.2018

 

2338

2496

4834

2163

2671

           لیکن سابقہ زیر التواء مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ابھی بھی تقریباً 11,000/- سے زائد مقدمات قابل تصفیہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر اسی تسلسل اور جذبہ کے ساتھ کام کیا گیا تو اگلے ایک سال کے اندر عدالت العالیہ اور اس کے شریعت اپیلیٹ بینچ بھی زیر التواء مقدمات یکسو ہو کر رواں زیر کار مقدمات کی سطح پر آنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس حوالہ سے میری تجویز ہے کہ عدالت العالیہ /شریعت اپیلیٹ بینچ کو تمام مقامات پر باقاعدہ فعال رکھا جائے۔بالخصوص میرپور میں مستقل بینچ کا قیام ناگزیر ہے۔

سروس ٹربیونل کی کارکردگی:۔ آزاد کشمیر سروس ٹربیونل کی تشکیل نو کے بعد کی کارکردگی انتہائی تسلی بخش ہے۔ اعداد و شمار ذیل درج  ہیں:۔

Pendency as 01.10.2017

Institution from 01.10.2017

To06.07.2018

Total

Decision 01.10.2017

To06.07.2018

Balance till 06.07.2018

 

2040

854

2894

1871

1023

سروس ٹربیونل نے نہ صرف بڑی تعداد میں زیر التواء مقدمات کو جلد یکسو کیا بلکہ سرکٹ بینچ ہا میں بھی باقاعدگی سے سماعت کا سلسلہ جاری رہا  جس سے ملازمین کو فراہمی انصاف کی نسبت اطمینان بخش کارکردگی دیکھنے کو ملی۔ اس معیار کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

ضلعی عدلیہ کی کارکردگی اور مطلوبہ اقدامات:۔ضلع عدلیہ میں سول جج سے لے کر ڈسٹرکٹ جج اور تحصیل فوجداری عدالت سےلے کر ضلعی فوجداری عدالت اور فیملی عدالت شامل ہیں جن کی مجموعی کارکردگی اطمینان بخش ہے ۔ تحصیل و ضلعی عدلیہ کی مجموعی سالانہ کارکردگی کے مطابق اس وقت 42109 مقدمات زیر کار ہیں جو سال گزشتہ کی تعداد سے زیادہ ہیں اس لئے اس توازن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ سالانہ کارکردگی کے اعداد و شمار بذیل درج ہیں:۔

Pendency on 01.01.2017

Institution From 01.01.2017 to 31.08.2018

Total

Decision During 01.01.2017 to 31.08.2018

Current Pendency 01.09.18

37676

77605

115281

73172

42109

متذکرہ اعداد و شمار اور نظام فراہمی انصاف کے مجموعی تجزیے کے بعد ریاستی سطح پر جن پہلوؤں پر توجہ دینی ضروری ہے اُن میں سرفہرست مقدمات کی تعداد کی مناسبت سے ججز کی تعداد بڑھانا ہے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں گو بعض ججز صاحبان نے سال کے دورانیہ میں 15,00 سے زائد مقدمات کے فیصلے بھی کیے ہیں تاہم سارے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سالانہ 1,000 مقدمات کا ہدف مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی پالیسی پر عملدرآمد کرواتے ہوئے عدالت العالیہ ماتحت عدالتوں سے کم از کم اس ہدف کو حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائے۔ جن مقامات پر مقدمات کی تعداد 1,000/- سے تجاوز کر جائے وہاں پر اضافی منصف کی تعیناتی ضروری ہے۔

         ضلع سطح پر اکثر عدالتوں میں گو زیر کار مقدمات کی تعداد مناسب ہے تاہم کچھ مقامات پر تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بروقت نظام فراہمی انصاف کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہ ہے۔ مثلاً سینئر سول جج مظفرآباد کے پاس 1648 ، سینئر سول جج کوٹلی کے پاس 1564، سینئر سول جج میرپورکے پاس 2206اورسینئر سول جج بھمبر کے پاس 1329 مقدمات زیر کار ہیں ۔ اسی طرح سال کے دورانیہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرآباد نے 1905، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی نے  1827 جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میرپور نے 2548 مقدمات کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح اعداد و شمار کی روشنی میں ایک ہی مقام پر تعینات ججز کی تعداد اور مقدمات کی تعداد میں تفاوت پایا جاتا ہے۔اگر ایک مقام پر سینئر سول جج کے پاس 2000مقدمات ہیں تو اُسی اسٹیشن پر سول جج کے پاس 500مقدمات ہیں۔ یہی تفاوت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز اور ڈسٹرکٹ ججز کے زیرکار کار مقدمات میں رہی ہے۔

اگرچہ ایک ہزار سے زائد مقدمات کی تعداد ہو وہاں اضافی عدالت کاقیام ضروری ہے۔ تاہم بعض اضلاع میں عدالت العالیہ کی سطح پر مناسب  انتظامی تبدیلیوں سے بھی توازن قائم کیا جاسکتا ہے۔جیسے کہ مظفرآباد میں ایڈیشنل سیشن جج/ ریفرنس جج کے پاس صرف 91 مقدمات زیر کار ہیں۔ اس طرح ایڈیشنل سیشن جج مظفرآباد سے اضافی کام لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایڈیشنل ٖڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہنسہ کے پاس صرف 143 مقدمات زیر کار ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی عدالت ہا میں مقدمات کی اس تفاوت کو انتظامی سطح پر نپٹایا جاسکتا ہے۔

احتساب کورٹ، ریفرنس کورٹ ،میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپیلیٹ ٹربیونل اور عدالت انسداد دہشت گردی کی کارکردگی:۔سال بھر میں احتساب کورٹ کے روبرو 294 مقدمات زیرکار رہے جن میں سے 64 کا فیصلہ کیا گیا ۔ اسی طرح ریفرنس کورٹ منگلا ڈیم کے پاس 339 مقدمات زیر کاررہے جن میں سے 32 کا فیصلہ کیا گیا جبکہ میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپیلیٹ ٹربیونل کے پاس 10 مقدمات زیرکار رہے جن میں سے 9 کا فیصلہ کیا گیا۔ آزاد کشمیر میں اس وقت انسداد ہشت گردی کے کل 24مقدمات زیر کار ہیں انہیں بھی جلد از جلد یکسو کیا جائے۔ ان عدالتوں کو اپنی رفتارکو بہتر بنانا چاہیے۔

تحصیل و ضلع قاضی صاحبان سے متعلقہ معاملات:۔اعداد و شمار کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس وقت 45 لاکھ کی آبادی کے لیے تحصیل و ضلعی سطح پر ججز اور قاضی صاحبان کی تعداد136ہے۔ اگر ہم پاکستان اور خطے کی آبادی کے تناسب سے جائزہ لیں تو یہ تعداد کم نہ ہے۔ آزاد کشمیر میں تحصیل و ضلعی سطح پر دو رکنی فوجداری عدالتیں قائم ہیں۔ایک عرصہ سے وکلاء ، عوام اور سنجیدہ حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ دو رکنی کے بجائے یک رکنی عدالت قائم کی جائے تو بھی موجودہ تعداد کے ساتھ فراہمی انصاف کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اس سے قاضی صاحبان کے بہت سے معاملات مثلاً گریڈ میں تفاوت اور ترقی کےمعاملات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں ایسے قاضی صاحبان جو دینی علوم کے ساتھ رائج الوقت قانون کی ڈگریLL.B یا اس سے اعلی ڈگری کے حامل ہیں اور اس ڈگری کے حصول کے بعد اُن کی مجموعی طوالت سروس 15سال بشمول 5 سال بطور ضلع قاضی ہو تو اُن کو جج عدالت العالیہ / شریعت کورٹ کا اہل قرار دیے جانے کی نسبت بھی قانون سازی کی جاسکتی ہے تاکہ جس ریاست کا آئینی طور پر اسلام نہ صرف ریاستی مذہب بلکہ پالیسی کی اساس بھی ہے میں ، دینی تعلیم کے حامل قاضی صاحبان سے اس طرح کے امتیاز کو ختم کیا جاسکے۔

وکلاء کا کردار:نظام  فراہمی عدل کا خواب وکلاء کے مؤثر کردار کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ میں آزاد کشمیر کے وکلاء کے تعاون کا مشکور ہوں۔ تاہم اس حوالے سے بہت پیش رفت کی ضرورت ہے۔ نئی عدالتی پالیسی میں وکلاء کے اس کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی اور مرکزی سطح پر کئی کمیٹیوں میں ان کی  شمولیت  لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح معاشرے میں مظلوم  افراد کی قانونی معاونت کے لیے متعلقہ  قانون میں پہلے سے ہی طریقہ کار موجود ہے لیکن عملاً اس سلسلہ میں بار کی طرف سے کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا گیا۔ اس لیے وکلاء تنظیموں  کی توجہ دلائی جاتی ہے کہ جوڈیشل پالیسی اور بار کونسل قواعد  کے تحت وکلاء کے متعین کردہ کردار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

          دنیا میں جہاں بھی نظام عدل مؤثر طور پر نافذ ہے اس میں وکلاء کا بہت اہم کردار ہے۔ حالیہ برطانیہ کے دورے  کے دوران وکلاء سے تبادلہ خیال پر معلوم ہوا کہ ساٹھ فیصد مقدمات کے فیصلے وکلاء ہی کرتے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات دائر ہونے پر فریقین کووکلاء (solicitor) کی معاونت سے معاملہ یکسو کرنے کا موقع فراہم  کیا جاتا ہے اور وکلاءپوری ذہانت کے ساتھ قانون کے مطابق کا م کرتے ہوئے فریقین کی راہنمائی کرتے ہیں تو وہ ساٹھ فیصدمقدمات کا تصفیہ کر لیتے ہیں۔ یوں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہاںیہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وکیل قانون کے مغائر طرز عمل اپنائے گایا مؤکل کو خلاف قانون مشورہ دے گایا بددیانتی کا مرتکب ہو گا۔ اس طرز عمل کو یہاں اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔

          میں وکلاء کے مسائل کے حوالے سے بھی حکومت کی توجہ دلاؤں کاکہ وکلاء کے دیرینہ حل طلب مطالبات مثلاً چیمبر کی تعمیر و فراہمی، رہائشی کالونیوں کی منصوبہ بندی اور طبی سہولتوں کی فراہمی جیسے امور پر توجہ دے کر دستیاب وسائل کے مطابق انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

جوڈیشل اکیڈمی:۔ نظام فراہمی انصاف کے حوالے سے آزاد جموں و کشمیر میں جوڈیشل اکیڈمی کا قیام ناگزیر ہے۔ عملی اقدامات متعلقہ اداروں میں زیر تجویز ہیں۔ مستقبل قریب میں ایک جوڈیشل اکیڈمی کا قیام عمل میں لانے پر اتفاق ہوا ہے۔ فی الحال کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ میں عدالتی آفیسران کی تربیت کا اہتمام کیا گیا اور گزشتہ سال کے دورانیہ میں عدالت کے کئی ملازمین کو باری باری تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ میں اس بات  کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام ادارے اور حکومتی نظام لوگوں کی بہتری اور فلاح کے لیے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر عدلیہ نے اس مقصد کے حصول کے لیے دیگر اداروں سے تعاون  کرتے ہوئے شعوری کوشش کی ہے کہ قانون کی مکمل عملداری ہواور آئندہ بھی اس کوشش کو جاری رکھا جائے گا۔ ماسوائے کچھ اہم قابل توجہ پہلوؤں کے آزاد کشمیر کے تمام اداروں نے نظام انصاف کی بہتری کے لیے جو  تعاون و کاوشیں کی ہیں میں اُن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

جیل خانہ جات:نظام فراہمی انصاف سے جیل خانہ جات کا بھی گہرا تعلق ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں سزا کا تصور محض انسانیت کی تذلیل یا اذیت دینا نہ ہے بلکہ قانون کی پاسدار ی اور عملدرآمد کا احساس اجاگر کرنا اورایک پُرامن فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے افراد کی کردار سازی ہے۔ آزاد کشمیر کے جیل خانہ جات کی حالت اطمینان بخش نہ ہے۔ مکانیت اور دیگر سہولیات کا فقدان ہے۔ حتیٰ کہ خواتین اور نابالغ بچوں کے لیے بھی بنیادی ضرورتیں میسر نہ ہیں۔ اس حوالہ سے ضروری ہے کہ حکومت اور دیگر ادارے اس پہلو پر فوری توجہ دیں۔ جیل خانہ جات کے اندر وہ بچے جو والدین کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن کا کوئی جرم نہ ہے، اُن کی تعلیم و تربیت اور سہولیات کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ خواتین اور بچوں کے علاج معالجہ اور صحت و صفائی سے متعلقہ امور کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی اخلاقی اور فنی تعلیم و  تربیت کا بھی اہتمام کیا جانا لازمی ہے تاکہ جیل خانہ جات سے سزا بھگتنے کے بعد ایسے افراد مزید احساس محرومی اور ردِعمل میں مبتلا ہو کر معاشرے کے لیے ناسور نہ بنیں بلکہ مفید شہری ثابت ہوں۔

بیرون ملک مقیم شہریوں کے مقدمات کا فوری تصفیہ:آزاد کشمیر کے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بسلسلہ روزگار بیرون ملک رہائش پذیر ہیں  جن کو جائیداد ، عائلی اور بچوں کی حضانت کے معاملات کے سلسلہ میں مقدمات کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر درخواستوں اور اخباروں کے ذریعے ان شہریوں کا بڑا مطالبہ ہوتا ہے کہ بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے بیرون ملک سے جدوجہد کرنا ان کے لیے انتہائی دشوار ہے جو بعض اوقات روزگار کے چِھن جانے کا بھی سبب بن جاتا ہے۔ عدالتی پالیسی میں وضع کیا گیا ہے کہ ان شہریوں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد یکسو کیا جائے تاہم مقننہ کو چاہیے کہ وہ قانون سازی اور انتظامی احکامات کے ذریعے جائیداد ، عائلی اور بچوں کی حضانت سے متعلقہ مقدمات جن میں فریقین ہا یا کوئی ایک فریق بیرون ملک رہائش پذیر ہے ،کے جلد تصفیہ کے لیے خصوصی عدالت کا قیام اور ان مقدمات کے تصفیہ کا وقت تعین کیا جائے تاکہ بیرون ملک رہائش پذیر شہریوں کی مشکلات کا تدارک ہو سکے۔

سالانہ رپورٹ:۔آزاد کشمیر عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار ریاستی پالیسی سااز کمیٹی ایکٹ کی منشاء کے مطابق سالانہ رپورٹ ترتیب دی گئی ۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے اس لیے اس کو جامع اور مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا اور بہت سے پہلو تشنہ ہو سکتے ہیں تاہم نظام عدل کے حوالے سےضروری اعداد و شمار اور متعلقہ پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے کوشش کے باوصف اس میں بہت بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلہ میں تمام اہل فکر و دانش کی تجاویز کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ یہ رپورٹ عدلیہ کا اپنی کارکردگی کا قوم کے سامنے اظہار ہے۔ سارے ادارے اور منصب قوم کی امانت ہیں جنہیں ریاست اور عوام کے مفاد میں کام کرنا ہے۔ آئین کی منشاء کے مطابق ججز کے طرزِ عمل کو متعنیہ آئینی طریقہ کار  کے علاوہ کسی اور فورم پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا لیکن عدالتوں کی کارکردگی کو جانچنے اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کرنے پر کوئی پابندی نہ ہے۔اس رپورٹ کے اعداد وشمار کی روشنی میں اگر حکومت اور قانون ساز ادارےنظام عدل کی بہتری کے لیے تجاویز دیں گے تو ہر قابل عمل تجویز کو پذیرائی ملے گی۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں مقننہ اور انتظامیہ نے نظام فراہمی انصاف میں جو کردار ادا کرنا ہے اسے بھی موثر بنایا جائےگا۔

میڈیا کا کردار:۔ جدید دور کے ریاستی اداروں میں میڈیا ایک اہم ادارہ شمار ہوتا ہے۔میں مجموعی طور پر میڈیا کے مثبت کردارکو سراہتا ہوں۔ مجھے امید ہےکہ میڈیا آئین میں درج حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئےلوگوں تک درست معلومات فراہم کرنے اور مظلوم طبقہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار جاری رکھے گا۔ بسا اوقات بدوں تصدیق عدالتوں میں زیر کار مقدمات کی نسبت کسی ایک فریق کے نکتہ نظر کے مطابق میڈیا میں معاملات زیر بحث لائے جاتے ہیں جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ غلط معلومات کی بناء پر عوام میں غلط تاثرپیدا ہوتا ہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہےکہ کسی ایک فریق کے نکتہ نظر کی اشاعت کے بجائے ریکارڈ کے مطابق تصدیق شدہ مواد کی اشاعت کی جائے۔ ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ نظام فراہمی انصاف میں عدالتوں نے طاقتور، قانون شکن افراد اورگروہوں کی کارستانیوں پر گرفت کرتے ہوئے کمزور، مظلوم اور بے زبان لوگوںکو حقوق دلانے ہوتے ہیں۔ ان کمزور اور بےزبان لوگوں کی میڈیا میں کوئی رسائی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس طاقتور اور قانون شکن افراد وگروہ بے پناہ وسائل اورمیڈیا میں رسائی کی بناء پر میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا کو اس ضمن میں انتہائی محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے قانون شکن افراد اور گروہ اپنے مکروہ مقاصد کے لیے اس ادارے کا استعمال نہ کر سکیں۔

پولیس کا کردار:۔ نظام فراہمی عدل کے حوالے سے بالخصوص تعزیراتی اور فوجداری مقدمات میں پولیس  کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ عدالت ہذا کے مشاہدے میں آیا ہے کہ کئی اہم مقدمات میں تفتیشی آفیسر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی کمی، عدمتوجہ یا دیگر وجوہ کی بناء پر ناقص تفتیش کی وجہ سے قانون شکن افراد سزا سے بچ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تفتیشی شعبہ کی تربیت کے خصوصی اہتمام کے ساتھ ساتھ انسپکٹر جنرل آف پولیس ضلعی سطح پر تفتیشی آفیسران کی مؤثر نگرانی اور کارکردگی کے جائزہ کا نظام وضع کریں۔ ضلع سطح پر اس ضمن میں کمیٹی تشکیل دے کر سہہ مائی جائزہ لیا جائے اور غفلت اور لاپروائی کے مرتکب آفیسران کے خلاف تحت ضابطہ کارروائی کی جائے۔

انتظامیہ کا کردار:۔ مقدمات کے واقعات کے علاوہ بے شمار درخواستوں اور سائلان کی فراہم کردہ معلومات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض دفعہ انتظامی حکام کی معمولی غفلت ، عدم توجہ  یا دانستہ لاپروائیکی   وجہ سے ایک عام آدمی کو عدالت عظمیٰ تک برس ہا برس کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے جس میں نہ صرف کثیر سرمایہ درکار ہے بلکہ خاطر خواہ وقت بھی لگتا ہے ۔ اگر حکام دیانت  اور توجہ کے ساتھ قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں تو 60فیصد سے زائد ایسے مسائل پیدا نہ ہوں گے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آف آزاد جموں وکشمیر ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ غیر ضروری مسائل پیدا نہ ہوں، عدالتوں پر مقدمات کا دباؤ کم ہو اور عام آدمی مقدمہ بازی کی آزمائش اور پریشانی سے بچ سکے۔

ضروری تجاویز:۔اس اجمالاً تجزیہ کے بعد قانون کی عملداری اور نظام فراہمی انصاف کو مؤثر بنانے کے لیے میں چند تجاویز اور ہدایات جاری کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

1۔      اعداد و شمار کی روشنی میں ضلعی عدلیہ میں رفتارِ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید دائری مقدمات کی تعداد اور تعداد فیصلہ میں مثبت توازن پیدا ہو سکے۔ اس وقت آزاد کشمیر میں قاضی صاحبان سمیت منصفان کی تعداد قریباً 136 ہے۔  جس طرح اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ بعض جج صاحبان نے سال بھر میں 1500 سے زائد مقدمات کے فیصلے بھی کیے ہیں تاہم اگر اوسطً 1000 کا ہدف حاصل کیا جائے تو سال بھر میں 1,36,000/-مقدمات کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اگر اس ہدف کو حاصل کر لیا جائے تو سابقہ زیر کار مقدمات نہ صرف ختم ہو سکتے ہیں بلکہ رواں زیر کار مقدمات کا فیصلہ بھی ایک سال کے اندر ممکن بنایا جاسکتا ہے جس کے حصول کے لیے عدالت العالیہ کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے آزاد جموں و کشمیر عدالت العالیہ قواعد کار مجریہ 1984ء کے قاعدہ 111 کے تحت ایک جج کو بطور Judge in Administrative Department مقرر کر کے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔ میں یہاں پر زبانی طور پر کچھ مثالیں عرض کروں گا جن کو ریکارڈ کا حصہ بنانا مناسب نہیں سمجھتا۔

2۔      اکثر مقدمات میں سماعت کے دوران یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ عدالت العالیہ سمیت ماتحت عدلیہ میں ترقیاتی منصوبہ جات ، ملازمین کے متعلق امور اور پبلک سروس کمیشن جیسے حساس معاملات میں حکمِ امتناعی جاری کر کے برس ہا برس معاملات التواء میں پڑ جاتے ہیں جس سے بہت دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں ، ترقیاتی بجٹ ضائع ہو جاتا ہے، افراد حدِ عمر تجاوز کر جاتے ہیں اور کئی اداروں میں کام بھی تعطل کا شکار ہوتا ہے جبکہ قانون میں حکم امتناعی کے معاملہ کو یکسو کرنے کے لیے وقت متعین ہے۔ اس ضمن میں جوڈیشل پالیسی میں بھی اصول وضع کیے گئے ہیں۔ تمام عدالتوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ قانون کی منشاء کے مطابق ایسے امور کو جلدی یکسو کیا جائے بصورت دیگر قانون کے تقاضے پورے کرنےکے لیے عدالت ہذا یہ اصول وضع کرنےپر مجبور ہو جائے گی کہ متعینہ وقت کے بعد ایسے حکمِ امتناعی غیر مؤثر ہوجائیں گےاور ادارے حکمِ امتناعی کے پابند نہ ہوں گے لیکن یہ عدلیہ کے لیے اچھی صورتحال نہ ہوگی۔

3۔      آزاد کشمیر میں 24 کے قریب انسداد دہشت گردی کے مقدمات زیر کار ہیں۔ قانون انسداد دہشت گردی کے مطابق ان مقدمات کو یکسو کرنے کا وقت متعین ہے۔ اگر ان مقدمات کو بھی عام مقدمات کی طرح زیر کار رکھا جائے گا تو خصوصی عدالت کے قیام کامقصد فوت ہو جائے گا۔ اسی طرح فیملی کورٹ ایکٹ اور بعض دیگر قوانین میں بھی فیصلوں کا وقت متعین ہے۔ یہ تمام عدالتیں قانون کی پابندی کرتے ہوئےمتعینہ وقت میں مقدمات یکسو کریں اور بغیر کسی ناگزیر وجہ کے فیصلہ نہ کرناعدالتی بدمعاملگی کے ذمرہ میں آتا ہے جو قابلِ مواخذہ ہے۔ اس طرف فوری توجہ دی جائے۔

4۔      اسی طرح آزاد کشمیر کے شہریوں کی بڑی تعداد بیرون ملک ہے اور انہیں حصول انصاف کے لیے دشواریوں کا سامنا ہے۔ تمام عدالتیں جوڈیشل پالیسی میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم افراد کے مقدمات کی الگ سے تفصیل بھی مرتب کرین اورایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد یکسو کرنے کی پوری سعی کریں۔

5۔      قاضی صاحبان سے متعلقہ معاملات کا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔ اس ضمن میں مقننہ اور انتظامیہ مناسب قانون سازی کر نے پر غور کرسکتی ہے۔

5۔      یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ مقدمات اور اپیلوں کی سماعت کے دوران بلاوجہ تاریخ گردانی کی جاتی ہے جبکہ قانون کی منشاء کے مطابق مقدمات کی سماعت میں التواء کرنے کے لیے قانونی جواز کا درج کیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح گواہان حاضر آمدہ کے بیانات قلمبند نہ ہونے کی وجہ سے بھی نہ صرف نظام فراہمی انصاف میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ شہادت بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ تمام منصفان غیر ضروری تاریخ گردانی اور حاضر آمدہ گواہان کے بیانات قلمبند نہ کرنے کے طرزِ عمل سے اجتناب کریں۔

6۔      نظام فراہمی انصاف میں بار اور وکلاء کا اہم کردار ہے۔ اس حوالے سے انجمن ہائے وکلاء اور بار کونسل ، بار کونسل قواعد کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ عدالتی پالیسی میں وکلاء کو ضلعی اور مرکزی سطح پر کئی کمیٹیوں میں شمولیت دی گئی ہے۔ اس ضمن میں معاشرے کے مظلوم افراد کی قانونی امداد کے لیے وکلاء پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس  کے لیے مؤثر اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

7۔      جیسا کہ اعداد و شمار کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر مقدمات کی تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ اضافی عدالت کا قیام کیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت مناسب اقدامات اُٹھائے۔

8۔      کثیر تعداد میں بیرون ملک شہریوں کے شہریوں کے حوالے سے بھی ضروری ہے کہ مقننہ اور انتظامیہ اس حساس معاملے پر توجہ دے اور ضروری ہو توقانون سازی کی جا کرسمندر پار شہریوں کے لیے خصوصی عالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔

9۔      کچھ مقامات پر ضروری مکانیت کی کمی کا سامنا ہے۔سروس ٹربیونل جو ایک انتہائی اہم ادارہ ہے کی سرکٹ بینچ میں کوئی مکانیت نہ ہے۔ اسی طرح ایڈووکیٹ جنرل کے ادارہ کوبھی اسی مشکل کا سامنا ہے۔ حکومت فوری طور پر اس طرف توجہ دے اور ضروری مکانیت فراہم کرے۔

10۔    تحصیل و ضلع میں مرکزی سطح پر پیروی مقدمات کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

11۔    نظام فراہمی عدل میں عدالت العالیہ کا اہم کردار ہے۔ تجویز ہے کہ عدالت العالیہ کے زیر اہتمام سالانہ جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد کیا جا کر کام کا جائزہ لیا جائے اور آئندہ کے لیے ماتحت عدلیہ کو رہنمائی فراہم کی جائے۔

12۔    آزادکشمیر میں جوڈیشل اکیڈمی، کیمیکل ایگزمینر اور فرانزک سائنس لیبارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے کیونکہ ان اداروں کی کمی فراہمی انصاف میں بڑی رکاوٹ ہے۔

13۔    عدالت عظمیٰ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے اندر قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنائے اور ریاست کے اندر تمام ادارے بشمول عدلیہ اس ذمہ داری کے نبھانے میں عدالت عظمیٰ کی معاونت کے پابند ہیں۔ عدالت ہذا نے قانون کی عملداری کے لیے کئی اہم فیصلہ جات صادر کرنے کے ساتھ ساتھ اصول وضع کیے اور ہدایات بھی جاری کی ہوئی ہیں لیکن ان پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ جیسا کہ میرپور میں ماسٹر پلان کی بحالی، پبلک سروس کمیشن کے قواعد کے مطابق ہر سال تمام خالی آسامیوں کی تفصیل، بلدیاتی قوانین پر مکمل عملدرآمد وغیرہ جیسے معاملات شامل ہیں۔ گو کہ تحت قانون ان سارے معاملات پر عدالت کو از خود عملدرآمد کروانے اور کارروائی کا اختیا حاصل ہے  اور اس ضمن میں عملدرآمد کا ایک شعبہ بھی موجود ہے لیکن اداروں کو مناسب وقت یتے ہوئے اسے روبکار نہیں لایا گیا مگر اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ عدالت عملدرآمد کروانے کے لیے اپنے اختیارات کو بروئے کار لائے۔

14۔    ہم تمام اہل فکر و دانش افراد، وکلاء اورمیڈیا سے نظام فراہمی انصاف کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت تجاویز کی گزارش کرتےہیں۔

سامعین محترم!  کسی بھی مہذب معاشرے کا تصور مؤثر نظام فراہمی انصاف کے بغیر ناممکن ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ریاستوں اور معاشروں کی مضبوطی ، استحکام، امن، سلامتی، ترقی اور فلاح کا دارومدار ایک مؤثر، مضبوط اور فوری فراہمی انصاف کے نظام سے مشروط ہے۔ جن معاشروں اور ریاستوں میں نظام فراہمی انصاف کو نظر انداز کیا جاتا ہے وہاں انارکی اور بد امنی پیدا ہوتی ہے جو ریاستوں اور معاشروں کی کمزوری اور انتشار کا سبب بنتی ہے۔جمہوری اقدار کا تحفظ اور معاشی ترقی کا تصور  بھی ایک مؤثر نظام فراہمی انصاف سے منسلک ہے۔ اس لئے تمام اداروں  کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے اندر جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر نظام فراہمی انصاف کے لئے کردار ادا کریں تاہم عدلیہ سے منسلک جج ، قاضی صاحبان پر سب سےزیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لئے ہمیں ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لئے تیار رہتے ہوئے  پوری دیانت، محنت، لگن و ایمانداری سے تمام صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہیئں۔

           میں سب شرکاء کا اس تقریب میں شمولیت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس عہد کے ساتھ نئے سال کا آغاز کرتے ہیں کہ ہم آئندہ بہتر کارکردگی کے ساتھ دوبارہ نئے عدالتی سال کی تقریب منعقد کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مدد، نصرت  اور رہنمائی فرمائے۔

Last Updated on: 12-12-2016 21:49:39