خطاب عزت مآب جناب جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء، جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر بموقع فُل کورٹ ریفرنس تکمیل آئینی مدت منصبی عزت مآب جناب جسٹس محمد اعظم خان صاحب چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر مورخہ 24 فروری2017ء

خطاب عزت مآب جناب جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء، جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر

بموقع فُل کورٹ ریفرنس تکمیل آئینی مدت منصبی عزت مآب جناب جسٹس محمد اعظم خان صاحب چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر  مورخہ 24 فروری 2017ء

عزت مآب جناب چیف جسٹس محمد اعظم خان صاحب، چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر

میرے فاضل بھائی جج جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان صاحب، فاضل ایڈووکیٹ جزل آزاد جموں و کشمیر ،

فاضل وائس چیئرمین آزاد جموں و کشمیر بار کونسل، فاضل صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

صدر ھائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، قابل احترام ممبران بار کونسل،

 صدر صاحبان، عہدہداران و ممبران بار ایسوسی ایشنز و جملہ خواتین و حضرات۔ السلام علیکم!

                        صدیوں سے جاری اچھی روایت کے تسلسل میں آج کی یہ تقریب جناب محمد اعظم خان کی بطور چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کو انتہائی احسن طریقے سے آئینی ذمہ داریاں نبھانے پر ‘ خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ربِ کائنات کے حضور اظہارِ تشکر کے طور پر منعقد کی گئی ہے۔ میں سپریم کورٹ اور آزاد کشمیر عدلیہ کی طرف سے شرکاء کو اس تقریب میں شرکت پر خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

                        سامعین محترم! جناب چیف جسٹس صاحب کی شخصیت کے کمالات اور اوصاف کا احاطہ مجھ سے پیشتر مقررین انتہائی اچھے اسلوب اور طرز کے ساتھ قندِ مکرر کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔ بالخصوص میرے فاضل بھائی جج ، جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے اپنے مقالہ میں بڑے فاضلانہ طور پر تمام پہلوئوں کا احاطہ کر کے حسبِ روایت میرے لیے آسانی پیدا کر دی ہے۔ اُن کی پیش کردہ خیالات صرف اُن کے ہی نہیں بلکہ ہم دونوں کے متفقہ سمجھے جائیں اور میری گزارشات کا حصہ تصور کیے جائیں ۔ اس لیے میں اُن پہلوئوں کا دوبارہ تذکرہ کر کے آپ کی سماعتوں کی گرانی میں اضافہ نہیں کرتا چاہتا۔

                        جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ یہ تقریب ایک اچھی روایت کے تسلسل میں ہے ورنہ تو گزشہ ایک ماہ سے آزاد کشمیر کے طول و عرض میں جناب چیف جسٹس کی آئینی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے حوالہ سے تقریبات کا ایک لا امتناعی سلسلہ جاری ہے اور زمانہ طالبعلمی سے لے کر چیف جسٹس آزاد کشمیر تک اُن کی شخصیت و کردار کے ہر پہلو کا احاطہ کیا جاچکا ہے۔ اُن کی شخصیت ہمہ پہلو متوازن، مدبرانہ، دور اندیش اور محبتِ فاتح عالم جیسے اوصاف سے مزین ہے اور یہ اُن کا کسبِ کمال ہے کہ وہ عزیز جہاں قرار پائے۔

                        سامعین محترم! بطورِ چیف جسٹس موصوف نے ہمہ جہت اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے بہتری اور ترقی کے نئے نئے راستے تلاش کیے جس کے نتیجے میں آج سپریم کورٹ سے لے کر ماتحت عدالتوں تک بیشتر مسائل مکانیت وغیرہ حل ہو چکے ہیں یا حل ہونے کے قریب ہیں۔ اسی طرح اُنہوں نے نہ صرف عدلیہ کو انہتائی نامساعد حالات سے نکالا بلکہ عدلیہ اور وکلاء کے درمیان خوشگوار تعلقات کو قائم و استوار کیا جس سے عدالتوں کے وقار، عزت اور اُن پر عوامی اعتماد کا اضافہ ہوا ۔ میں آزاد کشمیر عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کی طرف سے اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور اُن کی خدمت تا دیر یاد رکھی جائیں گی۔

                        جب سے انسانی معاشرہ تشکیل پایا اور جب تک یہ قائم رہے گا ، فراہمی عدل و انصاف کے اداروں کی ضرورت موجود رہے گی اور ان میں زمان و مکاں کے تقاضوں کے مطابق اصلاح اور بہتری کی گنجائش بھی موجود رہے گی۔ بلاشبہ موسمی اعتبار سے فطرتی طور پر ہم بہارِ نو سے گزر رہے ہیں ۔ اسی طرح اگر میں یہ کہوں کے جناب چیف جسٹس نے خزاں کے موسم سے عدلیہ کو نکال کر بہار کی طرف رواں دواں کردیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اُن کی منتظمانہ، مہربان اور مدبرانہ شخصیت کے باعث ایک بہت ہی بہتر ماحول نے جنم لیا جس کا احاطہ کرنے کے لیے A.F  Juliaکے دو اشعار کا حوالہ بہتر سمجھتا ہوں۔

Little drops of water, little grains of sand

Make the mighty ocean and the pleasant land

Little deeds of kindness, little words of love

Help to make earth happy like the heaven above

                        انسانی معاشرے میں جہاں پر اختیارات کا استعمال بھی ہو اور بالخصوص عدلیہ جیسی حساس ذمہ داریوں کا فریضہ بھی نبھانہ ہو تو یہ نا ممکن ہے کہ سب ہی خوش ہوں اور کسی کو گلہ شکوہ نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو یہ خلاف فطرت ہے۔ اسی لیے فطری تقاضوں کے حوالہ سے جہاں ایک طرف بہار میں پورا گلشن پھولوں سے مہک رہا ہو وہاں شاید کوئی کانٹا بھی سر اُٹھا رہا ہو۔ چیف جسٹس صاحب اور ہم نے اس کانٹے کو بھی فطرت کے تقاضوں کے مطابق گلشن کا حصہ سمجھا اور اس کو توڑ کر پھینکنے کی کوشش میں وقت ضائع کرنے سے اجتناب برتنا ہی مناسب سمجھا۔ عام مشاہدہ میں ہے کہ دنیا کے پھولوں میں گلاب سب سے زیادہ فرحت بخش ہے مگر اس کی لطافت کو نکھارنے کے لیے کانٹے بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے گلاب کی کی لطافت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کبھی کانٹوں سے الجھنے کی کوشش نہیں کو اور معاف و درگزر کرنے کی روش اپنائے رکھی۔ اگر وہ کانٹوں سے الجھتے تو منزل دور ہو جاتی اور کئی ایک مثبت کام نہ ہوسکتے ۔ اس لیے

میں میکدے کے راستے ہوئے کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کتنا طویل تھا

                        جناب چیف جسٹس کے حوالے سے نہ صرف آج جتنے مقالے پڑے گئے بلکہ گزشہ ایک ماہ سے جن اچھے خیالات کا اظہار کیا گیا گویا وہ سب میرے دل میں ہے۔ اس لیے وقت کی نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں زیادہ سمع خراشی نہ کروں گا۔ آئیے ہم سب اپنے محسن چیف جسٹس صاحب کی صحت مند، پرسکون اور طویل عمر کے لیے دعا کریں اس امید کے ساتھ کہ وہ آئینی ذمہ داریاں مکمل کر چکے ہیں لیکن ہمارا تعلق مکمل نہیں ہو اور یہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے تا دیر ہمیں مستفید کرتے رہیں گے۔

                        میں اس موقع پر بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کی وساطت سے تمام وکلاء برادری اور عدلیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے سارے عرصہ میں اپنے مثبت طرز عمل سے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کیا ۔ گزشتہ ایک ماہ سے جناب چیف جسٹس صاحب کے اعزاز میں جتنی تقریبات کا انعقاد کیا گیا اس سے بھی بار و بینچ کے وقار میں اضافہ ہوا اور مستقل کی بہتر شروعات کا آغاز ہوا۔

                        اس موقع پر میں سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے ججز بالخصوص چیف جسٹس ہائیکورٹ کے کردار اور خدمات کے ساتھ ساتھ مقامی عدلیہ اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے جملہ آفیسران و اہلکاران کی شبانہ روز محنت اور کردار کو سراہنا بھی ناگزیر سمجھتا ہوں کیونکہ سب کے اجتماعی رویہ و کردار سے ہی کامیابی کا سفر طے ہوا۔ بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کے مثبت، دور اندیشانہ اور باہم برادرانہ طرزِ عمل نے انتہائی اہم اثرات مرتب کیے اور ماضی کی طرح عدلیہ کے اندر کسی سازش اور منفی سوچ کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی نہیں کی گئی۔ آئندہ بھی یہی طرزِ عمل عدلیہ کی آزادی اور وقار کا ضامن بن سکتا ہے۔

 آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کے مستقبل میں فراہمی انصاف کے اداروں کو مزید مستحکم کریں گے۔ میں اپنی گزارشات کا اختتام پر فرمان الہیٰ کی طرف توجہ دلائوں گا کہ

وتعاونو علی البر و التقوی و لا تعاونو علی الاثم والعدوان

(نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں تعاون کرو، برائی اور ظلم کے کاموں میں مت معاون بنو)

                        ہم سب کو اس اصول کو مدِ نظر رکھنا چاہیے ۔اگر میں قانون کی زبان میں تقویٰ کی وضاحت کروں تو ایک ہی معنی ہے ’’قانون کی مکمل پاسداری‘‘۔ جب انسان اللہ کے احکامات کی مکمل پاسداری کرتا ہے تو وہ پرہیزگار یعنی متقی بن جاتا ہے۔ ہمیں دستیاب وقت اور وسائل کو بروئے کار لا کر آج ہی کام کرنا ہوگا۔ نہ ماضی میں کھونے کی ضرورت ہے اور نہ مستقبل کے سہانے خواب کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی ۔ W. M Long Fellow نے کہا کہ

Trust no future, how ever pleasant

Let the dead past bury its dead

Act, act in the living present

Heart within and God overhead.

                                                                                 اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ شکریہ۔

Last Updated on: 12-12-2016 21:49:39